30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چونکہ دونوں طرح کی روایتوں یعنی موصول و مرسل کے راوی ثقہ ہیں ، لیکن حماد بن
زید ، کے مقابلہ میں سفیان کی روایت کو متعدد ثقہ حضرات نے ذکر کیا ہے ، لہذا موصول راجح اور مرسل مرجوح قرار دی گئی اور مذکورہ سند محفوظ اور اس کے مقابل شاذ ہوئی ۔
شاذ المتن :- وہ حدیث جس کے متن میں شذوذ ہو ۔ جیسے:۔
عن عبد الواحد بن زیاد عن الاعمش عن ابی صالح عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اذا صلی احدکم الفجر فلیضطجع عن یمینہ۔ (۱۰۵)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز فجر پڑھ لو تو داہنی کروٹ پر لیٹ جائو ۔
یہ حدیث قولی ہے ۔ لیکن دوسرے ثقہ حضرات نے اس حدیث کو حضور کے فعل کے طور پر ذکر کیا ہے ۔ امام بیہقی کہتے ہیں ، عبد الواحد نے حدیث قولی روایت کر کے متعدد ثقہ روات کی مخالفت کی ہے ۔ اور یہ اپنی اس روایت میں تنہا ہیں ۔ لہذا ان کی روایت’’ شاذ ‘‘اور دوسرے حضرات کی ’’محفوظ‘ ‘ ہے ۔
منکرو معروف
تعریف منکر :- وہ حدیث جس کا راوی ضعیف ہو اور معتمد رواۃ کی حدیث کے خلاف روایت کرے ۔
اس کے مقابل کو معروف کہتے ہیں : ۔
مثال : - ابن ابی حاتم کی روایت بطریق حبیّب بن حبیب :۔
عن ابی اسحاق عن العیزار بن حریث عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : من اقام الصلوۃ و آتی الزکوۃ و حج البیت و صام و قری الضیف دخل الجنۃ ۔ (۱۰۶)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے نماز پڑھی ،زکوۃ دی ،حج بیت اللہ کیا ، رمضان کے روزے رکھے اور مہمان نوازی کی وہ جنت میں داخل ہوا ۔
ابو حاتم کا کہنا ہے کہ یہ روایت منکر ہے ، کیونکہ ثقہ روات نے اس حدیث کو موقوفا روایت کیا یعنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع