30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام شعبہ سے روایت کرنے والے آدم اور محمد بن جعفر ہیں لیکن کسی میں یہ لفظ نہیں ۔
آدم سے بطریق شعبہ امام بخاریٔ نے روایت لی ہے انکے الفاظ یہ ہیں :۔
عن آدم بن ابی ایاس ، ثنا شعبۃ ، ثنا محمد بن زیاد قال سمعت اباہریرۃ و کان یمر بنا و الناس یتو ضئون من المطہرۃ فیقول : اسبغوا الوضوء ، فان ابا القاسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: ویل للأعقاب من النار۔ (۸۱)
اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ ’اسبغوا الوضوء ‘ حضرت ابوہریرہ کا قول ہے ۔
اور محمد بن جعفر اور امام وکیع سے بطریق شعبہ امام مسلم نے روایت فرما کر ارشاد فرمایا :۔
وَلیس فیِ حَدِیث شعبۃ أسبغوا الوضُوء ۔( ۸۲)
امام شیبۃ کی حدیث میں اسبغوا الوضوء کے الفاظ نہیں ۔
خیال رہے کہ یہ تفصیل حضرت ابو ہریرہ کی روایت کی بنا پر ہے ورنہ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عاص سے جو روایت آئی اس میں یہ جملہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے یوں منسوب ہے ۔
کہ آپ نے ارشاد فرمایا:۔
ویل للأ عقاب من النار اسبغوا الوضوء ۔ (۸۳)
خشک ایڑیوں کیلئے جہنم کی ہلاکت ہے ، وضو میں مبالغہ کرو۔
اور امام بہقی نے ابو عبد اللہ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بایں الفاظ مرفوعا
روایت لی ۔
انما مثل الذی یصلی ولا یرکع ، وینقر فی سجودہ کا لجائع لایأکل الا تمرۃ او تمر تین فماذا تغنیان عنہ ، فاسبغوا الوضوء ، ویل للأعقاب من
النار۔ (۸۴)
جوشخص نماز پڑھے اور رکوع و سجود اطمینا ن سے نہ کرے اسکی مثال ایسی ہے کہ بھوکے آدمی کو ایک دو کھجور کھانے کو ملیں ، تو کیا یہ اسکو کفایت کریںگی ، لہذا وضو میں مبالغہ کرو، سوکھی ایڑیوں کے لئے دوزخ کی ہلاکت ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع