30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
: بدگمانی سے بچو کہ یہ بڑا جھوٹ ہے ، کسی کی پوشیدہ باتیں نہ سنو اور کسی کی اندورن خانہ چیزوں میں نہ پڑو، آپس میں ایک دوسرے کو نیچا نہ دکھاؤ اور باہم حسد نہ رکھو ، اپنے درمیان بعض و عناد نہ رکھواور قطع تعلق نہ کرو ، اللہ تعالی کے بندے بھائی بھائی بنکر رہو۔
پہلی حدیث حضرت انس سے مروی ہے اور دوسری حضرت ابو ہریرہ سے ، امام مالک نے دونوں کو علیحدہ علیحدہ سندوں سے ذکر کیا ۔
پہلی حدیث حضرت انس سے مروی ہے اس میں لفظ ’ولا تنا فسوا‘ نہیں اور دوسری حضرت ابوہریرہ سے اور اس میں یہ لفظ ہے۔ امام مالک نے دونوں حدیثوں کو علیحدہ علیحدہ سند سے ذکر کیا تھا ۔ مگر امام مالک کے شاگرد سعید بن حکم المعروف بابن ابی مریم ، نے دونوں روایتوں کو پہلی سند سے روایت کر دیا۔(۷۹)
٭ شیخ نے ایک سند بیان کی اور اس کا متن بیان کرنے سے پہلے کسی ضرورت سے کچھ کلام کیا ، شاگرد نے اس کلام کو سند مذکور کا متن خیال کرکے اس سند کے ساتھ شیخ سے روایت کر دیا ۔
یہ چاروں صورتیں مدرج الاسناد کی ہیں ۔
تعریف مدرج المتن ۔ جس متن حدیث میں غیر حدیث کو داخل کر دیا جائے خواہ صحابی کا قول ہو یا بعد کے کسی راوی کا ۔ نیز ادراج درمیان میں ہو یا اول و آخر میں ۔ پھر اسکو حدیث رسول کے ساتھ اس طرح مخلوط کر دیا جائے کہ دونوں میں امتیاز نہ رہے ۔
٭ اول حدیث میں ادراج ، جیسے :۔
خطیب بغدادی نے ’ابو قطن ‘ اور ’ شبابہ‘ سے ایک روایت یوں نقل کی ہے ۔
عن شعبۃ عن محمدبن زیاد عن ابی ہریرۃ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:اسبغو ا الوضوء ، ویل للأ عقاب من النار ۔ (۸۰)
حضرت ابو ہررہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وضو میں خوب مبالغہ کرو، ایڑیوں کے لئے دوزخ کی تباہی ہے ۔
اس حدیث میں ’ اسبغوا الوضوئ‘ حضرت ابو ہریرہ کا فرمان ہے جس کو ابو قطن
و غیرہ نے حدیث مرفوع میں مخلوط کرکے پیش کر دیا ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع