30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلکہ اس وجہ سے کہ صحت حدیث پر انکو وثوق تھا اور بوجہ شہرت اپنے شیوخ
کے ذکر کی ضرورت نہ سمجھی ، لہذا انکی حدیث پر بایں معنی جرح نہیں کی جاتی۔
حکم :۔ ایسی احادیث ضعیف کی اہم اقسام سے ہیں، علماء نے اس عمل کو نہایت مکروہ بتایا ہے
اور بہت مذمت کی ہے، امام شعبہ نے تدلیس کو کذب بیانی کا دوسرا عنوان بتایا ہے ۔
مدلس الشیوخ:۔ وہ حدیث جسے راوی اپنے استاذ سے نقل کر تے ہوئے اس کے لئے
کوئی غیر معروف نام، لقب، کنیت ، یا نسب ذکر کرے تا کہ اسے پہچانا نہ جا سکے۔(۶۵)
اسکی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ شیخ سے بکثرت روایتیں کرنے کی وجہ سے بار بار معروف نام لینا نہیں چاہتا۔
حکم:۔ اس میں پہلی قسم کی بہ نسبت نقص کم ہو تا ہے ، کیونکہ راوی ساقط نہیں ہوتا، ہاں راوی کا غیر معروف نام ذکر کر کے سامعین کو الجھن میں مبتلا کر نا ہے۔
ایسی احادیث میں اگر سماع کی تصریح کر دی جائے تو حدیث مقبول ورنہ غیر مقبول ہوگی، نیز وہ حضرات جو ثقہ سے تدلیس کر تے ہیں انکی مقبول ورنہ غیر مقبول ۔( ۶۶)
تصانیف فن
اس فن میں محدثین نے مستقل کتابیں لکھیں چند یہ ہیں :۔
٭ کتاب التدلیس للخطیب، م ۴۶۳
٭ التبین لأسما ء المدلسین للخطیب، م۴۶۳
٭ التبین لأسماء المدلسین للحلبی، م ۸۴۱
٭ تعریف اہل التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس لا بن حجر، ۸۵۲
مرسل خفی
تعریف : جس حدیث کو راوی کسی ایسے شخص سے نقل کرے جس سے اسکی معاصرت کے
باوجود ملاقات یاسماع ثابت نہ ہو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع