30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حکم:۔ ضعیف شمار ہو تی ہے اور مرسل کے بعد اسکا نمبر آتا ہے۔
معضل اور معلق کے درمیان عموم خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔
مادۂ اجتماع:۔ یہ ہے کہ اآغاز سند سے پے در پے دو راوی ساقط ہوں۔
مادۂ افتراق:۔ درمیان سند سے پے در پے دو یا زائد راوی ساقط ہوں تو معضل کہیں گے معلق نہیں۔
آغاز سند سے صر ف ایک راوی ساقط ہو تو معلق کہا جائے گا معضل نہیں ۔
منقطع
تعریف :۔ درمیان سند سے ایک راوی ساقط ہو ، اور دو یا زائد ہوں تو پے در پے نہ ہوں۔
مثال۔ حدثنی محمد بن صالح،ثنا احمد بن سلمۃ، ثنا اسحاق بن ابراہیم، ثنا عبد الرزاق، انا النعمان بن شیبۃ، عن سفیان الثوری، عن ابی اسحاق، عن زید بن یتبع، عن حذیفہ، رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ان و لیتموہا ابا بکر فزاہد فی الدنیا راغب فی الآخرۃ و فی جسمہ ضعف، و ان ولیتموہا عمر فقوی امین لا یخاف فی اللہ لو مۃ لا ئم، و ان ولیتموہا علیا فہاد مہتد یقیمکم علی صراط مستقیم ۔(۶۴)
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم خلافت صدیق اکبر کے سپرد کرو گے تو انکو دنیا سے بے رغبت اور آخرت کی طرف راغب پاؤگے ، اور وہ اپنے جسم میں ضعیف ثابت ہوں گے ۔ اور عمر فاروق اعظم کے سپرد کرو گے تو وہ قوی اور امین ثابت ہوں گے، احکام الہہ میں کسی کی پرواہ نہیں کریں گے۔ اور اگرعلی کو خلیفہ بناو گے تو وہ سیدھی راہ پر خود بھی چلیں گے اور دوسروں کو بھی صراط مستقیم پر گامزن رکھیں گے۔
اس حدیث کی سند میںایک راوی سفیان ثوری اور ابو اسحق کے درمیان سے ساقط ہیں اور وہ شریک ہیں، کیونکہ سفیان ثوری نے ابو اسحق سے براہ راست سماعت نہیں کی بلکہ بواسطہ شریک ، لہذا یہ منقطع ہے ، اسی لئے امام ذہبی نے تلخیص میں اسکو ضعیف کہا ۔
چونکہ اس حدیث کی سند میں سقوط راوی شروع سند سے نہیں لہذا یہ معلق نہیں ، اور آخر سند سے نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع