30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بجے تک مصروف عمل رہتا ۔ بلکہ آخری مراحل میںتو یہ سلسلہ اور بھی دراز ہوجاتا ۔
دیکھنے والے کہتے : کیا مولانا صاحب کو مچھر نہیں کاٹتے ؟ کیا انہیں جسم پر کیڑوںکے رینگنے کا احساس نہیں ہوتا ؟ سب کچھ ہوتا تھا، لیکن تالیف ’’جامع الاحادیث‘‘ کے عشق نے ان تمام باتوں کا تحمل آسان بنادیا تھا ۔
آلام روز گار کو آساں بناد یا
جو غم ہوا اسے غم جاناں بنادیا
سخت سردی کی راتوں میں جبکہ چادر سے ہاتھ نکالنا گراں ہوتا ، ہر چیز یخ بستہ ہوتی اعضاء و جوارح کسی بھی کام کی انجام دہی کیلئے آمادہ نہ ہو تے ۔ لیکن جذبات کی حرارت حضرت مولف کو سر گرم عمل رکھتی ، اور ایسی شدید سردی میں بھی آپ کا رہوار قلم رواں دواں اور دامن قرطاس پر روح پرور وباصر ہ نواز نقش و نگار بنانے میں مصرو ف رہتا۔
حضرت مولف کی یہ خدمت یقینا علمی دنیامیں نمایاں مقام پانے کی مستحق ہے ۔ دوران تالیف جن علمائے ذوی الاحترام نے بھی اسکو ملاحظہ کیا انہوں نے صدائے تحسین و آفرین بلند کر کے حضرت مولف کے حوصلوں کو استحکام بخشا اور اسکو عظیم و مفید ترین کارنامہ قرار دیا۔
رئیس التحریر حضرت علامہ ارشد القادری صاحب قبلہ مد ظلہ العالی جامعہ میں تشریف لائے ۔ کتاب کو ملاحظہ فرمانے کے بعد کچھ اس طرح ارشاد فرمایا : مولانا ! آپ یہ عظیم ترین خدمت انجام دے رہے ہیں ، اس کے ذریعہ اعلیٰحضرت قدس سرہ العزیز کی علم حدیث و متعلقات کے سلسلہ میں غیر معمولی وسعت علم اور بالغ نظری منظر عام پر آئے گی ۔ اور تخریج احادیث کی روشنی میں لوگوں کو اطمینان حاصل ہو گا کہ اعلیٰ حضرت نے حوالوں میں جو کتب احادیث لکھی ہیں وہ یونہی نہیں لکھ دیں ۔
راقم السطور اس سلسلہ میں ایک مثال پیش کرتا ہے ۔ حدیث نور جو حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے اس کیلئے اعلی حضرت نے مندرجہ ذیل کتب کے حوالے دئے ہیں ۔
مواہب لدنیہ ، افضل القری ، مطالع المسرات ، شرح مواہب ، تاریخ خمیس ، مدارج النبوۃ، لیکن اس وقت کے طریقہ کے مطابق ان کی جلداور صفحہ نمبر کی نشان دہی نہیں فرمائی ہے ۔
حضرت مولف نے تخریج میں جلدوصفحہ نمبر بلکہ مصنفین کی صراحت بھی فرمادی ۔ جو اس طرح ہے۔
المواہب اللدنیہ للعسقلانی، ۱/۵۵ ٭ شرح المواہب للزرقانی، ۱/۵۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع