30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوگا۔
لہذا ضعیف الیقین لوگوں کو اپنا دین بچانے کے لئے دوری بہتر ہے، ہاں کامل الایمان وہ کرے جو صدیق اکبر اور فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کیا اور نہا؎یت مبالغہ کے ساتھ کیا ۔ کہ ایک مجذوم کے ساتھ صدیق اکبر نے کھانا کھایا تو جہاں سے وہ مجذوم نوالہ لیتے وہیں سے آپ نوالہ لے کر نوش فرماتے ، اور حضرت فاروق اعظم نے حضرت معیقیب بدری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کھانا کھایا جبکہ انکو یہ مرض تھا۔ اگر معاذ اللہ کچھ حادث ہوتا انکے خواب میں بھی خیال نہ گزرتا کہ یہ عدوائے باطلہ سے پیدا ہوا ، ان کے دلوںمیں ایمان کوہ گراں شکوہ سے زیادہ مستقر تھا کہ :۔ لن یصیبنا الا ماکتب اللہ لنا۔
بے تقدیر الہی کچھ نہ ہو سکے گا۔
اسی طرف اس قول و فعل حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ اپنے ساتھ کھلایا اور ’’ کل ثقۃ با للہ وتوکلا علیہ ‘‘ فرمایا ۔
با لجملہ مذہب معتمد و صحیح و رجیح و نجیح یہ ہے کہ جذام، کھجلی، چیچک اور طاعون وغیرہا اصلا کوئی بیماری ایک کی دوسرے کو ہر گز اڑ کر نہیں لگتی، یہ محض اوہام بے اصل ہیں ، کوئی وہم پکائے جائے تو کبھی اصل بھی ہو جاتا ہے کہ ارشاد ہوا۔
انا عند ظن عبدی بی۔
وہ اس دوسرے کی بیماری اسے نہ لگی بلکہ خود اسی کی باطنی بیماری کہ وہم پروردہ تھی صورت پکڑ کر ظاہر ہو گئی ، فیض القدیر میں ہے۔
بل الوہم وحدہ من اکبر اسباب الاصابۃ۔
اس لئے اور نیز کراہت و اذیت و خود بینی و تحقیر مجذوم سے بچنے کے واسطے اور اس دور اندیشی سے کہ مبادا سے کچھ پیدا ہو اور ابلیس لعین کچھ وسوسہ ڈالے کہ دیکھ بیماری اڑ کر لگ گئی ، اور اب معاذ اللہ اس امر کی حقانیت اسکے خطرہ میں گزرے گی جسے مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم باطل فرما چکے۔ یہ اس مرض سے بھی بدتر مرض ہوگا، ان وجوہ سے شرع حکیم ورحیم نے ضعیف الیقین لوگوں کو حکم استحبابی دیا ہے کہ اس سے دور رہیں اور کامل الایمان بندگان خدا کے لئے کچھ حرج نہیں کہ وہ ان سب مفاسد سے پاک ہیں۔ خوب سمجھ لیاجائے کہ دور رہنے کا حکم ان حکمتوں کی وجہ سے ہے نہ یہ کہ معاذ اللہ بیماری اڑ کر لگتی ہے۔ اسے تو اللہ و رسول رد فرما چکے ، جل جلالہ و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع