30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭ ائمہ محدثین کے درمیان بغیر انکار شہرت، حتی کہ اس سے قطعیت بھی حاصل ہو تی ہے۔
٭ سند کا کذب سے متصف افراد سے خالی ہونا، نیز قرآن کریم کی تصریحات و اشارات وغیرہ سے موافتق بلکہ اقوال صحابہ و تابعین ، اسی طرح اصول شرع وقیاس سے موافقت بھی صحت کے قرا ئن سے روشن قرینے شمار کئے گئے ہیں ۔
٭ معتمد عالم و فقیہ کا کسی حدیث کے مطابق عمل۔(۴۳)
متقدمین کی تصریحات اگر کسی حدیث کی صحت و حسن کے بارے میں نہ مل سکیں تو متاخرین بھی بشرط اہلیت اسکا فیصلہ کر سکتے ہیں ، بلکہ تواتر و شہرت کا فیصلہ بھی معتبر ہو گا۔
خبر واحد مقبول کبھی مفید یقین بھی ہوتی ہے مثلا۔
٭ شیخین کی ذکر کردہ حدیث صحیحین غیر متواتر، ۔ یہ قرینہ ایسا ہے کہ کثرت طرق غیر متواتر پر بھی فوقیت رکھتا ہے۔ ہاں اس بات کا خاص خیال رہے کہ ائمہ نے اس پر تنقید نہ کی ہو اور کسی حدیث صحیح سے متعارض نہ ہو۔
امام ابن ہمام فرماتے ہیں: کہ شیخیں کی شرائط کی بنیاد پر یہ مرتبہ انکو حاصل ہوا تو ان شروط کے پیش نظر دوسروں کی مرویات بھی یہ مقام حاصل کر سکتی ہیں ، خصوصاً اس وقت جبکہ دوسرے ائمہ خود ان مسائل میں اجتہادی شان رکھتے ہوں۔
جیسے امام اعظم اور امام اورزاعی نے ایک مسئلہ میں اصح االاسانید کے تحت آنے والی ایک سند سے استدلال کیا تو امام اعظم نے رواۃ کی فقاہت کو وجہ ترجیح قرار دیا۔
٭ حدیث مشہور متعدد طرق سے مروی ہو اور سب طرق کے رواۃ ضعف اور علتوں سے محفوظ ہوں۔
٭ وہ حدیث غریب نہ ہو اور سلسلۂ سند میں راوی ائمہ دین ہوں، جیسے امام احمد نے امام شافعی سے اور انہوں نے امام مالک سے۔ خواہ پھر دوسرے راوی بھی ہوں۔
حکم:۔ یہ احادیث دوسری اخبار احاد سے فائق ہوتی ہیں اور بوقت تعارض راجح قرار پاتی
ہیں۔ ان سے حاصل شدہ علم یقین کا فائدہ دیتا ہے ، لیکن یہ یقین نظری و استدلالی ہو تا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع