30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قولی:۔ جیسے حضرت امام حسن بصری تابعی کا قول:۔
صل و علیہ بدعتہ، ( ۱۰)
نماز پڑھ لیاکرو اسکی بدعت اسی پر پڑے گی۔
فعلی:۔ جیسے ابراہیم بن محمد بن منتشر کا بیان:۔
کان مسروق یرخی الستربینہ و بین اہلہ و یقبل علی صلاوۃ و یخلیہم و دنیاہم،( ۱۱)
حضرت امام مسروق اپنے اہل و عیال کے درمیان پردہ ڈال کر نماز میں مشغول ہو جاتے اور انکو انکی دنیا میں مشغول چھوڑ دیتے۔
حکم:۔ کسی سند سے مرفوع ثابت ہوئی تو مرفوع مرسل کے حکم میں ہوگی، اور موقوف کا درجہ
حاصل کرنے کے لئے بعض احناف نے فرمایا کہ تابعی عہد صحابہ میں انکی نگرانی میں افتاء کا کام کرتا رہا ہو اور ان کا معتمد ہو تو اسکو موقوف کی حیثیت حاصل ہو گی، اسکو منقطع بھی کہا جاتا
ہے۔( ۱۲)
متصل :۔ وہ حدیث مرفوع یا موقوف جسکے تمام رواۃ مذکور ہوں۔
مرفوع متصل :۔ مالک عن ابن شہاب عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نعی النجاشی للناس فی الیوم الذی مات فیہ وخرج بہم الی المصلی فصف بہم و کبر اربع تکبیرات۔ (۱۳)
حضور اکرم سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شاہ حبشہ حضرت نجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتقال کی خبر صحابہ کرام کو سنائی اور ایک میدان میں جاکر انکی نماز ادا کی۔
اس حدیث کی سند متصل ہے اور حدیث مرفوع۔
موقوف متصل:۔ مالک عن نافع ان عبد اللہ بن عمر قال :یصلی علی الجنازۃ
بعد العصر و بعد الصبح اذا صلیتما لوقتہا۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: نماز جنازہ نماز عصر و فجر کے بعد بھی پڑھی جا سکتی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع