30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
موقوف :۔ وہ حدیث جو صحابی کی طرف منسوب ہو خواہ قول و فعل ہو یا تقریر۔ بیان کرنے
والے صحابی ہوں یا غیر صحابی، سند مذکور ہو یا نہیں ۔
اگر سند مذکور اور صحابی تک متصل ہو تو اسکو موقوف موصولی یا متصل کہتے ہیں، اور کبھی غیر صحابی کی حدیث کو بھی موقوف کہا جاتا ہے۔ لیکن اسکا استعمال قید کے ساتھ ہوگا۔ مثلا یوں کہیں گے:۔
حدیث کذاوکذاو قفۃ فلان علی عطاء او علی طاؤس او نحوہذا۔
فقہاء خراسان کی اصطلاح میں موقوف کو اثر اور مرفوع کو خبر کہا جا تا ہے۔ (۸)
ا س کی تین قسمیں ہیں:۔
Xقولی Xفعلی X تقریری
قولی:۔ جیسے ۔قال علی بن ابی طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم:حدثوا الناس
بما یعرفون۔(۱)
لوگوں سے وہ چیزیں بیان کرو جسکے وہ متحمل ہو سکیں۔
فعلی :۔ جیسے۔ ام ابن عباس وہو متیمم۔ (۹)
حضرت ابن عباس نے حالت تیمم میں امامت فرمائی۔
تقریری:۔ صحابی کے سامنے کوئی کام کسی مسلمان نے کیا اور انہوں نے سکوت فرمایا۔
حکم:۔ یہ کبھی مقبول ہوتی ہے اور کبھی غیر مقبول ۔ اگر یہ حکما مرفوع ہے تو قابل احتجاج ہوگی،
اور محض موقوف تو احادیث ضعیفہ میں تقویت کا کام دے گی اور غیر اختلافی امور میں حجت بھی قرار دی جائے گی۔ ہاں اختلافی امور میں بایں معنی اعتبار ہو گا کہ علاوہ اور مقابل کسی رائے اور قیاس کو دخل نہیں دیا جائے گا۔
مقطوع:۔ جو قول و فعل کسی تابعی کی طرف منسوب ہو۔
اسکی دو قسمیں ہیں:۔
٭قولی ٭ فعلی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع