30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبھی باعتبار اصل و آلہ ہوتی ہے ۔ یعنی یہ علم اصل ہے یا آلی۔ لہذا کہا جاتا ہے کہ علم حدیث اصلی ہے اور نحو و صرف علوم آلی ۔
اور کبھی شرعی و غیر شرعی اعتبار سے ، جیسے علم حدیث شرعی علوم سے ہے اور علم سحر غیر شرعی ۔
لہذا خلاصہ کلام یہ نکلا کہ علم حدیث کی جنس نقلی اصلی شرعی ہے ۔
۷۔ مرتبہ و مقام۔ مرتبۂ علم حدیث کے دو اعتبار ہیں ۔
۱۔باعتبار فضیلت ۔ ۲۔ باعتبار تعلیم
ؓ ٓؑباعتبار فضیلت تو یہ دوسرے مقام پر ہے ۔اول مرتبہ علم قرآن کا ہے ۔ اور باعتبار تعلیم درس نظامی میں اسکا مرتبہ آخری ہے کہ سب سے آخر میں اسی علم کو پڑھایا جاتا ہے ۔
۸۔تقسیم و تبویب ۔ جس طرح کتابوں میں تقسیم و تبویب ہوتی ہے اسی طرح علم کی بھی تقسیم و تبویب ہوتی ہے۔ لہذا حدیث کے آٹھ ابواب ہے ۔
۱۔ عقائد ۔ ۲۔احکام ۔ ۳۔ تفسیر ۔ ۴۔ تاریخ ۔ ۵۔ رقاق۔ ۶۔ آداب ۔ ۷۔ مناقب۔ ۸۔ فتن۔
یعنی ہر حدیث کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان آٹھوں ابواب میں سے کسی ایک میں داخل ہو ۔ جو کتاب ان آٹھوں ابواب پر مشتمل ہوگی اسکو جامع کہا جائے گا ۔
۹۔حکم شرعی ۔ علم حدیث کا حکم شرعی یہ ہے کہ جس مقام پر صرف ایک مسلمان ہو اس کے لئے
علم حدیث کا پڑھنا واجب عین اور ایک جماعت آبادہو تو واجب کفایہ ہے ۔یہ ہی حکم علم فقہ سے متعلق ہے کہ احادیث کی تفصیل تبیین فقہ پر ہی موقوف ہے ۔
علم اصول حدیث
تعریف :۔ایسے قواعدکا علم جس کے ذریعہ سند و متن کے وہ احوال معلوم ہوں جن سے حدیث کے مقبول و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع