30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حیثیت سے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔
۳۔ غرض وغایت ۔ جب کسی علم کا ثمرہ ونتیجہ معلوم ہوجاتاہے تو انسان اسی اعتبار سے اس علم کی طرف رغبت کرتاہے یااس سے اعراض ۔
علم حدیث کے حصول سے مقصد چند ہیں :۔
۱۔ ان فضائل وخصائل کا حصول جو حاملین حدیث کیلئے حضور نے ارشاد فرمائے ۔
۲۔ قرآن عظیم کے مجمل احکام کی توضیح وتبیین ۔
۳۔ کلام محبوب ہے لہذا اس کلام سے حلاوت ولذت کا حصول ۔
۴۔ حضور اور صحابہ کرام کی اتباع اور پیروی ۔
ان سب کا مرجع ومآل واحد ہے اور وہ یہ ہے کہ سعادت دارین حاصل کرنا ۔
۴۔وجہ تسمیہ ۔ باعتبار لغت حدیث قدیم کا مقابل ہے ۔ نیز اسکا استعمال ہر خبر کیلئے ہوتاہے خواہ قلیل ہویاکثیر ۔ کیونکہ اسکا ظہور تھوڑا تھوڑا ہوتا ہے ۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے شرح بخاری میں فرمایا :۔
عرف شرع میں حدیث اس کو کہتے ہیں جو حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو ۔ گویا یہ قرآن کریم کے مقابل ہے کہ وہ کلام اللہ ہے اور قدیم ۔اور یہ کلام رسول ہے اور حادث یاحدیث۔
۵۔ مؤلف ۔ یہ دو طرح ہوتے ہیں ۔ مؤلف فن ،مؤلف کتاب۔
چونکہ یہاںکسی خاص کتاب کا تعارف مقصود نہیں بلکہ مطلق علم حدیث کو ذکر کرنا ہے لہذا مؤلف فن یعنی جن حضرات نے اس فن کو ایجاد کیا ان کی تفصیل بیان کرنا ۔ اس کی تفصیل بعنوان حفاظت حدیث گزر چکی کہ صحابہ کرام نے اس علم کی حفاظت اپنے عمل و کردار سے کی اور روایت کرکے علم حدیث دوسروں تک پہونچا یا ۔
۶۔ اجناس ۔ علوم کی تفصیل مختلف اجناس ، حیثیات اور اعتبارات سے کی جاتی ہے۔
مثلاً علم کی تقسیم کبھی باعتبار نقل و عقل ہوتی ہے کہ یہ علم عقلی ہے یا نقلی ۔ لہذا کہا جائے گا کہ علم قرآن و حدیث نقلی ہیں اور منطق و فلسفہ عقلی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع