30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علم حدیث کی اصولی طور پر دو قسمیں ہیں ۔
X علم حدیث باعتبار روایت Xعلم حدیث باعتبار درایت
(علم حدیث ) (علم اصول حدیث)
ہر علم وفن کیلئے بطور مبادی آٹھ امور ذکر کئے جاتے ہیں جن کے ذریعہ طالب فن کو من وجہ بصیرت حاصل ہوجاتی ہے اور اس علم کا حصول آسان ہوجاتا ہے ۔ انکو اصطلاح فن میں رؤس ثمانیہ کہتے ہیں ۔ ان کا اجمالی خاکہ یوں ہے۔
۱۔ تعریف ۲۔ موضوع ۳۔ غرض وغایت ۴۔ وجہ تسمیہ ۵۔ مؤلف ۶۔ اجناس ۷۔ مرتبہ ومقام ۸۔ تقسیم وثبوت
لیکن ہم مسلمانوںکیلئے ایک نو اں امر جاننا بھی ضروری ہے اور وہ ہے اسکا شرعی حکم ۔ اس اجمال کی قدرے تفصیل ملاحظہ کریں ۔ واضح رہے کہ یہ تفصیلات قسم اول کی بیان کی جائینگی اور اسکے بعد دوسری قسم کا بیان ہوگا۔
۱۔ تعریف ۔ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اقوال ، افعال اور تقریرات کا نام ہے ۔
تقریر کا مطلب یہ ہے کہ حضور کا کسی کام کو ہوتے دیکھنا ، یاکسی چیز کی خبر آپ تک پہونچنا جبکہ اسکا متعلق مسلمان ہے پھر اس کا م پر سکوت فرمانا بھی حدیث کے تحت داخل ہے ۔
ہاں جو چیز یں احوال سے متعلق ہیں تو ان میں یہ تفصیل ہے کہ اگر وہ اختیاری ہیں تو افعال میں داخل ۔ اور غیر اختیاری ہیں جیسے حلیۂ مبارکہ ، واقعات ولادت وغیرھا تو اس سے کوئی حکم شرعی ثابت نہیں ہوتا ۔ اہل فقہ کے نزدیک یہ ہی تعریف مشہور ہے اور انکے فن سے یہ ہی متعلق ہے ۔
ہاں علماء حدیث نے مطلق احوال کو بھی حدیث میں شمار کیا کہ یہ انکے فن کے موافق
ہے ۔ لہذا سیرت مبارکہ کے تمام پہلو اس میں داخل ہیں ۔
صحابہ وتابعین کے اقوال وافعال کو بھی تبعاً حدیث میں شمار کیاجاتاہے بلکہ صحابہ کرام کی تقریرات بھی اسی زمرہ میں شامل ہیں ۔
۲۔ موضوع ۔ موضوع کے ذریعہ فن ممتاز ہوتاہے اور فن کی عظمت وشرافت باعتبار موضوع
ہوتی ہے ۔ لہذا یہاں علم حدیث کا موضوع حضور نبی کریمصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات ہے اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع