30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کر سراہتے ۔
لیکن برا ہو تعصب و عناد کا کہ دور حاضر کے منافقین کہ جن کے عقائد باطلہ ضالہ پر امام احمد رضا محقق بریلوی نے سخت گرفت فرما کر انکی گمراہی اور بد دینی کا پردہ چاک کر دیا اور ان کے ہفوات کو کیفر کردار تک پہنچا کر ان کو مبہوت و مسکت کر دیا ، وہ صرف بغض و عناد کی بناء پر اور امام احمد رضا محقق بریلوی کی علمی جلالت کی شان گھٹانے کے لئے ایسا غلط پروپگنڈ ا کرتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محقق بریلوی کو علم حدیث میں دسترس نہیں تھی ، اور وہ ’’ قلیل البضاعت‘‘ یعنی کم سرمایہ تھے ، لیکن اگر تعصب کی عینک کو پھینک کر بنظر انصاف امام احمد رضا محقق بریلوی کی کتابوں کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کیا جائے تو یہ بات ثابت ہو گی کہ علوم حدیث میں امام احمد رضا محقق بریلوی اپنے عہد کے یکتائے زمانہ تھے ، اسی وجہ سے مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے جلیل القدر علما ء و محدثین نے امام احمد رضا کے سامنے زنوائے ادب تہ کئے اور ان سے حدیث کی سندیں لیں ، جس کا تفصیلی بیان ۔’’ الاجازۃ المتینۃ لعلماء بکۃ والمدینۃ(۱۳۲۴ھ) اور ’’ الاجازۃ الرضویۃ المجبل مکۃ البھیۃ (۱۳۲۳ھ) میں موجود ہے ۔ جو طول تحریر کے خوف سے یہاں بیان کرنے سے قاصر ہیں ۔
علامہ محمد حنیف اور کتاب ’’ جامع الاحادیث ‘‘
امام احمد رضا محقق بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان اپنے وقت کے مجدد اعظم تھے اور انہوں نے ملت اسلامیہ کے لئے علم کا ایک عظیم ذخیرہ سرمایہ دین کی حیثیت سے چھوڑا ہے۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی تصانیف کی تعداد تقریباً چودہ سو (۱۴۰۰) کے قریب ہے اور ۱۲ ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’ العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ ‘‘علم کے بحر ناپید کنار کی حیثیت سے اس ذخیرہ علم کی شان و شوکت میں مزید اضافہ کر ر ہی ہیں۔ امام احمد رضا محقق بریلوی علیہ الرحمہ جب کبھی بھی کسی مسئلہ پر قلم اٹھاتے تو اس مسئلہ کے جواز یا عدم جواز کے ثبوت میں پہلے آیات قرآنیہ پیش فرماتے بعدہ احادیث کریمہ ، قول و فعل صحابہ کرام ، بعدہ ائمہ وعلماء معتمدین و متقدمین کی کتب معتبرہ ، مستندہ و معتمدہ کے حوالے مع اصل عربی متن و عبارت پیش کرتے اور ایک ایک مسئلہ کے ثبوت میں سینکڑوں حوالے درج فرماتے ۔ مثال کے طور پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا اور نماز جنازہ کی تکرار کرنا اس مسئلہ کے جواب میں آپ نے ’’ النھی الحاجز عن تکرار صلوۃ الجنائز(۱۳۱۵ھ)اور ’’ الھادی الحاجب عن جنازۃ الغائب‘‘(۱۳۲۶ھ) کل دو کتابیں الگ الگ تصنیف فرمائی ہیں ۔
ان دونوں کتابوں میں سے آخر الذکر کتاب ’’الھادی الحاجب ‘‘ میں آپ نے nدر مختارn غنیۃ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع