30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسماعیل تھے ۔ یہ پہلا دن ان کی زیارت کا تھا ۔ حضرت مولانا موصوف سے کچھ کتابیں مطالعہ کیلئے نکلوائیں ۔ حاضرین میں سے کسی نے اس مسئلہ کا ذکر کیا کہ قبل زوال رمی کیسی؟ مولانا نے فرمایا یہاں کے علماء نے جواز کا حکم دیا ہے ۔ حامد رضا خاں سے اس بارے میں گفتگو ہو رہی تھی ، مجھ سے استفسار ہوا ۔ میں نے کہا خلاف مذہب ہے ۔ مولاناسید صاحب نے ایک متداول کتاب کا نام لیا کہ اس میں جواز کو علیہ الفتوی لکھا ہے ۔ میں نے کہا کہ ممکن ہے روایت جواز ہو مگر علیہ الفتوی ہر گز نہ ہوگا ۔ وہ کتاب لے آئے اور مسئلہ نکلا اور اسی صورت سے نکلا جو فقیر نے گزارش کی تھی۔ علیہ الفتوی کا لفظ نہ تھا ۔ حضرت مولانا نے کان میں جھک کر مجھے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟اورحامد رضا کو بھی نہ جانتے تھے مگر اس وقت گفتگو انہیں سے ہو رہی
تھی ۔ لہذا ان سے پوچھا ۔ انہوں نے میرا نام لیا ۔ نام سنتے ہی حضرت مولانا وہاں سے اٹھ کر بے تابانہ دوڑتے ہوئے آکر فقیر سے لپٹ گئے ۔ ( الملفوظ ص ۱۰، ۱۱، جلد دوم )
امام احمد رضا کے حضور وہ بھی ایک مکی عالم نبیل محافظ کتب حرم سید محمد اسماعیل سے رمی قبل زوال کے عدم جواز پر حضرت حجۃ الاسلام نے فصیح عربی میں گفتگو کا حق ادا کردیا اور ’
’ الولد سرّ لابیہ ‘ ‘ کا وہ شاندار مظاہرہ پہلی بار حرم مکہ میں کیا کہ معاصر علماء کا یہ قول فیصل قرار پایا ۔
’’ اعلیٰ حضرت ( امام احمد رضا ) کے بعد اگر واقعی کوئی عالم اور ادیب تھے تو وہ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں تھے ۔ ‘‘
( مولانا حسنین رضا خاں خلیفۂ اعلیٰحضرت کا ارشاد)
امام احمدرضا قدس سرہ کا یہ دوسرا حج مبارک تھا ، اچانک اس حج کیلئے جانا اور حکمت الہٰیہ کا راز کھلنا یوں بیان فرماتے ہیں ۔
حکمت الہٰیہ یہاں آکر کھلی ۔ سننے میں آیا کہ وہابیہ پہلے سے آئے ہوئے ہیں جن میں خلیل احمد انبیٹھی اور بعض وزراء ریاست و دیگر اہل ثروت بھی ہیں ۔ حضرت شریف تک رسائی پیدا کی ہے اور مسئلہ علم غیب چھیڑا ہے اور اس کے متعلق کچھ سوال اعلم علما ء مکہ حضرت مولانا شیخ صالح کمال سابق قاضی مکہ و مفتی حنفیہ کی خدمت میںپیش ہوا ہے ۔ میں حضرت موصوف کی خدمت میں گیا ۔ میں نے بعد سلام و مصافحہ مسئلہ علم غیب کی تقریر شروع کی اور دو گھنٹہ تک اسے آیات و احادیث و اقوال ائمہ سے ثابت کیا اور مخالفین جو شبہات کیا کرتے ہیں ان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع