30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۸۹۴ میں فارغ التحصیل ہوئے جب فارغ ہوئے تو والد ماجد امام احمد رضا نے فرمایا ۔ ان جیسا عالم اودھ میں نہیں۔
فراغت کے بعد مسلسل ۱۵؍ سال ۱۳۲۶ ھ تک والد ماجد کی خدمت میں حاضر رہے اور تصنیف و تالیف ، فتوی نویسی اور دیگر مضامین عالیہ سے خدمت دین فرمائی ۔
اجازت و خلافت : ،۔نور الکاملین خلاصۃ الواصلین سیدنا حضرت مولانا الشاہ ابو الحسین
احمد نوری مارہروی قدس سرہ سے آپ کو خلافت و اجازت حاصل تھی ، اور پھر آپ کے حکم سے امام احمد رضا قدس سرہ نے بھی حجۃ الاسلام کو جملہ علوم ، اذکار واشغال ،اوراد و اعمال کی اجازت سے نوازا۔
علم و فضل : - آپ اپنے علم و فضل کے اعتبار سے بلا شبہ نائب امام احمد رضا تھے ، اہل علم میں
آپ کی مقبولیت صرف بڑے باپ کے بیٹے ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس بنیاد پر بھی تھی کہ وہ علوم دینیہ کے بحر بیکراں تھے ، جملہ علوم عقلیہ و نقلیہ میں دستگاہ کامل حاصل تھی تھے اور ایک عرصہ تک آپ نے منظر اسلام میں درس دیا ، تفسیر و حدیث ، فقہ واصول اور کلام و منطق وغیرہا میں آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا ، بالخصوص آپ کا درس بیضاوی ، شرح عقائد اور شرح چغمینی بہت
مشہور تھا ۔
حج و زیارت:۔ آپ نے اپنی عمر کے اکیسویں سال ۱۳۲۳ھ میں حج و زیارت کی سعادت
حاصل کی ، اور اپنی والدہ ماجدہ ، نیز عم محترم حضرت مولانا محمد رضا خانصاحب کے ساتھ روانہ ہوئے ، اس سفر سراپا ظفر میں امام احمد رضا جھانسی تک آپ کے ساتھ رہے ۔
امام احمد رضا جھانسی سے واپس تشریف لے آئے لیکن گھر آکر ایک اضطرابی کیفیت طاری تھی ، آخر کار والدہ ماجدہ سے اجازت لیکر خود بھی روانہ ہوگئے اور بمبئی سے سب کے ساتھ جدہ روانہ ہوئے ۔ اس طرح حجۃ الاسلام نے یہ حج اپنے والد ماجد کی معیت میں ادا کیا ۔
اس حج کی برکات نہایت عظیم و جلیل ہیں ۔ امام احمد رضا نے تفصیل سے الملفوظ میں ان کو بیان فرمایا ہے ۔ مختصرا یوں ہے ۔ حرم مکہ کے پہلے روز کی حاضری کا ذکر اس طرح فرمایا ۔
پہلے روز جو حاضر ہوا تو حامد رضا ساتھ تھے ۔ محافظ کتب حرم ایک وجیہہ و جمیل عالم نبیل مولانا سید
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع