30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الضعیف غیر الموضوع یعمل بہ فی فضائل الاعمال ‘‘ یعنی :۔ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے گا ۔ بس اتنا چاہیے کہ موضوع نہ ہو ۔
البتہ ! احکام شریعت کے استخراج میں حدیث ضعیف پر عمل نہیں کیا جائے گا ۔
یہاں تک کی گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ ایک محدث اور فقیہ کے لئے مسائل کے بیان میں حدیث دانی کا صرف سرسری علم ہی نہیں بلکہ فن حدیث ، اصول حدیث، اسماء الرجال وغیرہ پر وسیع اور بالغ النظری کا علم ہو نا لازمی او رضروری ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ قوت حافظہ بھی بڑا قوی اور پختہ ہونا چاہئے ۔ جب ایک محدث اور فقیہ کے لئے اتنا ضروری ہے تو ایک مجدد کے لئے تو اس سے بھی زائد علم و یاداشت درکا ر ہے ۔ لیکن امام احمد رضا محقق بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے محبوب اکرم و اعظم کا ایسا فضل عظیم اور کرم عمیم تھا کہ ۔
’’ایک مجدد کے لئے جو عبور اور صلاحیت درکار ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ عبور و صلاحیت اللہ و رسول نے انہیں ودیعت فرمائی تھی یہاں تک کہ بقول علماء و عظام و ائمہ کرام ملت اسلامیہ گزشتہ چار، پانچ صدیوں میں امام احمد رضا محقق بریلوی جیسا جامع العلوم والفنون عالم پیدا نہیں ہوا ‘‘
امام احمد رضا محقق بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان علم حدیث ، اصول حدیث ، معرفت حدیث ، طرف حدیث، علل حدیث، مصطلحات حدیث، روایان حدیث ، میں یگانہ روزگار تھے ، ان کا ثانی نظر نہیں آتا۔ امام احمد رضا محقق بریلوی کو حدیث کو پرکھنے ، جانچنے اور حدیث کی شرط و معیار متعین کرنے ، اور راویان حدیث کی معرفت و شناخت طے کرنے میں جو مہارت تامہ حاصل تھی وہ ان کے ممتاز وصف اور بلند وبالا مقام پر فائز ہونے کی شاہد عادل تھی۔
حالانکہ تمام علوم و فنون میں’’ فن اسما ء الرجال‘‘ ‘ نہایت مشکل فن مانا جاتا ہے اور صرف اسی فن میں مہارت حاصل کرنے میں فنکار کی زندگی کا بیشتر حصہ صرف ہو جاتا ہے ۔ زندگی بھر کی محنت و مشقت برداشت کرکے صرف اسی ایک فن میں بڑی مشکل سے مہارت حاصل ہو تی ہے ۔ امام احم رضا محقق بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کی حیات طیبہ کا جائزہ لینے سے یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ آپ کو کل ایک سو چودہ ۱۱۴ علوم و فنون میں مہارت کاملہ حاصل تھی ۔ انہیں علوم و فنون میں سے علم اسما ء الرجال میں امام احمد رضا کی معلومات و مہارت پر جب نظر پڑتی ہے تو بڑے بڑے محدثین بھی عش عش پکار اٹھتے ہیں ، گویا یوں محسوس ہوتا ہے کہ امام احمد رضا محقق بریلوی نے صرف اسی فن کی خدمت میں اپنی پوری زندگی صرف فرما دی ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع