30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
احادیث نفی ہیں ۔ ان میں اکثر ضعیف ہیں ۔ اور بعض غایت درجہ حسن ہیں صرف حدیث اول کی تصحیح ہو سکی ہے مگر وہی حدیث اس سے اعلیٰ وجہ پر جو صحیح بخاری میں آئی خود اسی میں ابطال عدوی موجود کہ مجذوم سے بھاگو اور بیماری اڑ کر نہیں لگتی تو یہ حدیث خود واضح فرمارہی
ہے کہ بھاگنے کا حکم اس وسوسہ اور اندیشہ کی بنا پر نہیں ۔
معہذا صحت میں اس کا پایہ بھی دیگر احادیث نفی سے گرا ہوا ہے کہ اسے امام بخاری نے
مسندا روایت نہ کیا بلکہ بطور تعلیق ۔
لہذا اصلاً کوئی حدیث ثبوت عدوی میں نص نہیں ۔ یہ تو متواتر حدیثوں میں فرمایا کہ
بیماری اڑ کر نہیں لگتی ۔ اور یہ ایک حدیث میں بھی نہیں آیا کہ عادی طور پر اڑ کر لگ جاتی ہے ۔
ہاں وہ حدیث کہ جذامیوں کی طرف نظر جما کر نہ دیکھو ا ن کی طرف تیز نگاہ نہ کرو ۔ صاف یہ تحمل رکھتی ہے کہ ادھر زیادہ دیکھنے سے تمہیں گھن آئے گی ، نفرت پیدا ہوگی، ان مصیبت زدوں کو تم حقیر سمجھوگے ۔ ایک تو یہ خود حضرت عزت کو پسند نہیں ، پھر اس سے ان گرفتار ان بلاکو نا
حق ایذاء پہونچے گی ۔ اور یہ روا نہیں ۔
قول مشہورومذہب جمہور و مشرب منصور کہ دوری و فرار کا حکم اس لئے ہے کہ اگرقرب و اختلاط رہا اور معاز اللہ قضا و قدر سے کچھ مرض اسے بھی حادث ہوگیا تو ابلیس لعین ا سکے دل میں وسوسہ ڈالے گا کہ دیکھ بیماری اڑ کر لگ گئی ۔ اول تو یہ ایک امر باطل کا اعتقاد ہوگا ۔ اسی قدر فساد کیلئے کیا کم تھا پھر متواتر حدیثوں میں سن کر کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صاف فرمایا ہے بیماری اڑ کر نہیں لگتی ۔ یہ وسوسہ دل میں جمنا سخت خطرناک اور ہائل ہوگا ۔ لہذا ضعیف الیقین لوگوں کو اپنا دین بچانے کیلئے دوری بہتر ہے ہاں ،کامل الایمان و ہ کرے جو صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کیا اور کس قدر مبالغہ کے ساتھ کیا ۔ اگر عیاذاً باللہ کچھ حادث ہوتا ان کے خواب میں بھی خیال نہ گزرتا کہ یہ عدوائے باطلہ سے پیدا ہوا ۔ ان کے دلوں میں کوہ
گراں شکوہ سے زیادہ مستقر تھا کہ لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا بے تقدیر الہی کچھ نہ ہو
سکے گا ۔
اسی طرف اس قول و فعل حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ اپنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع