30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں ۔
X فتاوی رضویہ حصہ نہم میں ایک حدیث نقل فرمائی ، جو تیرہ صحابہ کرام سے مروی ہے اور حدیث جلیل عظیم صحیح مشہور بلکہ متواتر ہے ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :۔
لا عدوی ولا طیرۃ ولا ہامۃ ولا صفر،
چھوت کی بیماری ، بدشگونی ، الو کا جا ہلانہ تصور، اور صفر کی جاہلانہ کارروائی کوئی چیز نہیں
اس حدیث کے معارض ہے وہ حدیث کہ حضرت ابو ہریرہ سے وہ بھی مروی ہے ، فرماتے ہیں ۔
فر من المجذوم کما تفر من الاسد۔
جذامی سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ۔
پھر اس کے معنی میں متعدد احادیث نقل فرمائیں۔
اس پر امام احمد رضا محدث بریلوی کا محققانہ کلام بلا غت نظام ملاحظہ کیجئے۔
صحیحین و سنن ابی داؤد و شرح معانی الآثار امام طحاوی وغیرہا میں حدیث ابو ہریرہ
رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے ۔ جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ
بیماری اڑ کر نہیں لگتی ، تو ایک باد یہ نشین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر اونٹوں کا کیا حال
ہے کہ ریتی میں ہوتے ہیں جیسے ہرن یعنی صاف شفاف بدن ، ایک اونٹ خارش والا آکر ان میں داخل ہوتا ہے جس سے خارش ہوجاتی ہے ۔ حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
فمن اعدی الاول ، اس پہلے کو کس کی اڑ کر لگی ۔
احمد و مسلم و ابو داؤد و ابن ماجہ کے یہاں حدیث ابن عمر سے ہے ارشاد فرمایا : ذلکم
القدر فمن اجرب الاول یہ تقدیری باتیں ہیں بھلا پہلے کوکس نے کھجلی لگادی ۔
یہ ہی ارشاد ا حادیث عبد اللہ بن مسعود ، عبد اللہ بن عباس ابو امامہ باہلی ، اور عمیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں مروی ہوا حدیث اخیر میں اس توضیح کے ساتھ ہے کہ فرمایا:ـ الم تروا الی البعیر یکون فی الصحراء فیصبح و فی کر کرتہ اوفی مراق بطنہ نکتۃ من جرب
لم تکن قبل ذلک فمن اعدی الاول
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع