30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول: اولاً۔ ان مجتہد بننے والوں کو اتنی خبر نہیں کہ حقیقت شرعیہ صلاۃ بمعنی ارکان مخصوصہ ہے ۔ یہ معنی نماز جنازہ میں کہاں ،کہ اس میں رکوع ہے نہ سجود ، نہ قرأت ہے نہ قعود ، الثالث عند نا والبواقی اجما عاً۔ لہذا علما ء تصریح فرماتے ہیں کہ نما زجنازہ صلاۃ مطلقاً نہیں اور تحقیق یہ ہے کہ وہ دعائے مطلق اور صلاۃمطلقہ میں برزخ ہے ۔ کما اشار الیہ البخاری فی صحیحہ
واطال فیہ ۔
لا جرم امام محمود عینی نے تصریح فرمائی کہ نماز جنازہ پر اطلاق صلاۃ مجازا ہے۔ صحیح بخاری
میں ہے ۔ سما ہا صلاۃ لیس فیہا رکوع ولا سجود ۔ ۱/ ۱۷۲
عمدۃ القاری میں ہے ۔
لکن التسمیۃ لیست بطریق حقیقۃولابطریق الاشتراک ولکن بطریق المجاز
ثانیا ۔ صلاۃ کے ساتھ جب علی فلاں مذکور ہو تو ہرگز اس سے حقیقت شرعیہ مراد
نہیں ہوتی اور نہ ہو سکتی ہے ۔
قال اللہ تبارک و تعالیٰ :
یَا أیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا صَلُّوا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔
اللہم! صل وسلم وبارک علیہ وعلی آلہ کما تحب و ترضی ۔
وقال تعالیٰ :
صَلِّ عَلَیْہِمْ ، اِنَّ صَلاَتَکَ سَکَنُ لَّہُمْ ،
وقال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔
اللہم! صل علی آل ابی اوفی ۔
کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ الہی ابی اوفی پر نماز پڑھ ،یا ان کا جنازہ پڑھ ۔ کیا صلاۃ علیہ ،
شرع میں بمعنی درود نہیں ، ولکن الوہا بیہۃ قو م لا یعقلون۔
فتاوی رضویہ ۴/ ۷۵
حدیث فہمی اور تطبیق و توفیق بین الاحادیث کی ایسی نادر مثالیں محدث بریلوی کی تصانیف میں بھری پڑی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع