30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ابو عمر وبن عبد العزیز نے کہا: اس حدیث کی سب سند یں ضعیف ہیں۔ اور دربارۂ احکام اصلاً حجت نہیں ۔ صحابہ میں کوئی شخص معاویہ بن معاویہ نام معلوم نہیں ابن حبان نے بھی
یونہی فرمایا : کہ مجھے اس نام کے کوئی صاحب صحابہ میںیاد نہیں ۔
ثانیاً ۔ فرض کیجئے کہ یہ احادیث اپنے طرق سے ضعیف نہ رہیں ۔ کما اختارہ الحافظ فی الفتح ۔ یابفرض غلط لذاتہ صحیح سہی ۔ پھر اس میں کیا ہے ۔ خود اسی میں تصریح ہے ۔ کہ جنازہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیش نظر انور کر دیا گیا تھا۔ تو نماز جنازہ حاضر پر ہوئی نہ کہ غائب پر ۔ بلکہ طرز کلام مشیر ہے کہ نماز جنازہ پڑھنے کے لئے جنازہ سامنے ہونے کی حاجت سمجھی گئی ۔ جبھی تو حضرت جبرئیل نے عرض کی: حضور نماز جنازہ پڑھنا چاہیں تو زمین
لپیٹ دوں ۔ تاکہ حضور نماز پڑھیں ۔
وہابیہ کے امام شوکانی نے نیل الاوطار میں یہاں عجیب تماشا کیا ۔
اولاً۔ استیعاب سے نقل کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے معاویہ بن معاویہ لیثی پر نماز پڑھی ۔ پھر کہا : استیعاب میں اس قصہ کا مثل معاویہ بن مقرن کے حق میں ابو امامہ
سے روایت کیا ۔
پھر کہا : نیز اسکا مثل انس سے ترجمہ معاویہ میں بھی معاویہ مزنی روایت کیا ۔
اس میں یہ وہم دلانا ہے کہ گویا یہ تین صحابی جدا جدا ہیں جن پر نماز غائب مروی ہے ۔ حالانکہ یہ محض جہل یا تجاہل ہے ۔ وہ ایک ہی صحابی ہیں ۔ معاویہ نام جنکے نسب ونسبت میں راویوں سے اضطراب واقع ہوا ۔ کسی نے مزنی کہا کسی نے لیثی ، کسی نے معاویہ بن معاویہ ، کسی
نے معاویہ بن مقرن ۔
ابو عمر نے معاویہ بن مقرن مزنی کو ترجیح دی کہ صحابہ میں معاویہ بن معاویہ کوئی معلوم
نہیں ۔
حافظ نے اصابہ میں معاویہ بن معاویہ مزنی کو ترجیح ۔ اور لیثی کہنے کو علاء ثقفی کی
خطا بتایا ، اور معاویہ بن مقرن کو ایک صحابی مانا جن کے لئے یہ روایت نہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع