30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روایت کیا )۔
٭ واقعہ دوم
اس واقعہ سے متعلق محدث بریلوی نے دو جواب دئیے ہیں ۔
اولاً:۔ ان تمام احادیث کو ائمہ حدیث عقیل ، ابن حبان، بیہقی ، ابو عمر وابن عبدالبر ،
ابن جوزی ، نووی ، ذہبی ، اور ابن الہمام وغیرہم نے ضعیف بتایا ۔ پہلی دو حدیثوں کی سند بقیہ بن ولید مدلس ہے اور اس نے عنعنہ کیا ۔ یعنی محمد بن زیاد سے اپنا سننا نہ بیان کیا بلکہ کہا ۔ابن
زیاد سے روایت ہے ۔ معلوم نہیں راوی کون ہے ۔ بہ اعلہ المحقق فی الفتح ۔
ذہبی نے کہا : یہ حدیث منکر ہے ۔ نیز اسکی سند میں نوح بن عمر ہے ۔
ابن حبان نے اسے اس حدیث کا چور بتایا ۔ یعنی ایک سخت ضعیف شخص اسے حضرت
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتا تھا ۔ اس نے اس سے چرا کر بقیہ کے سر باندھی۔
تیسری حدیث کی سند میں محبوب بن ہلال مزنی ہے ۔
ذہبی نے کہا : یہ شخص مجہول ہے اور اسکی یہ حدیث منکر ہے ۔
چوتھی حدیث کی سند میں علاء بن یزید ثقفی ہے ۔
امام نودی نے خلاصہ میں فرمایا : اسکے ضعیف ہونے پر تمام محدثین کا اتفاق ہے ۔
امام بخاری و ابن عدی اور ابو حاتم نے کہا : وہ منکر الحدیث ہے ۔
ابو حاتم و دار قطنی نے کہا: متروک الحدیث ہے ۔
امام علی بن مدینی استاذ امام بخاری نے کہا : وہ حدیثیں دل سے گڑھتا تھا ۔
ابن حبان نے کہا: یہ حدیث بھی اسکی گڑھی ہوئی ہے ۔ اس سے چرا کر ایک شامی نے
بقیہ سے روایت کی ۔
ابو الولید طیالسی نے کہا : علاء کذاب تھا۔
عقیلی نے کہا: علاء کے سوا جس جس نے یہ حدیث روایت کی سب علا ہی جیسے ہیں یا
اس سے بھی بد تر ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع