30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثقہ ہے یا غیر ثقہ ؟ اور علم اسماء الرجال کے ضوابط و اصول کی بناء پر اس راوی کی بیان کردہ حدیث کا درجہ اقسام حدیث کے اعتبار سے کیا ہے ؟ اس حدیث سے احکام کا استخراج کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ اور اس حدیث سے کیا استفادہ کیا جا سکتا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ
دور حاضر میں فرقہ ضالہ باطلہ نجدیہ وہابیہ تبلیغیہ کے ہٹ دھرم مولوی اور جاہل مبلغین حضور اقدس ﷺ کی عظمت و تعظیم کے تعلق سے نسبت رکھنے والی حدیثوں کو ضعیف کہہ کر اس ہر عمل کرنے سے عوام الناس کو روکتے ہیں ۔ عوا م بے چارے لفظ ’’ ضعیف‘‘ سن کر اس عمل کی صحت کے تعلق سے شک میں پڑ جاتے ہیں۔ اور بہکاوے میں آکر اس عمل کو ترک کر دیتے ہیں بلکہ اس عمل کے جائز و مستحب ہونے کے معاملے میں شک و شبہ کرنے لگتے ہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حدیث ضعیف فضائل میں مقبول ہے چند حوالے بحیثیت زیور گوش سامعین پیش خدمت ہیں ۔
(۱) امام ابو ذکریا نووی اپنی کتاب ’’ اربعین‘‘ میں اور امام جلیل شہاب الدین احمد علی بن حجرمکی عسقلانی ( المتوفی ۸۵۳ھ) اپنی کتاب’’ شرح مشکوۃ‘‘ میں اور امام اجل علامہ علی بن سلطان محمد ہروی مکی حنفی المعروف بملا علی قاری ۱۰۱۴ ھ اپنی کتاب ’’ مرقاۃ شرح مشکوۃ‘‘ اور ’’ حرزثمین شرح حصن حصین‘‘ میں فرماتے ہیں کہ :۔
’’ قد اتفق الحفاظ والفظ اربعین قد اتفق العلماء علء جواز العمل بالحدیث الضعیف فی فضائل الاعمال ‘‘ یعنی :۔ بے شک حفاظ حدیث اور علماء دین کا اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل جائز ہے ۔
(۲) شیخ الاسلام امام ابو ذکریا یحییٰ بن شرف نووی شافعی شارح صحیح مسلم شریف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی کتاب ’’ کتاب الانکار المنتخب من کلام سید الابرار‘‘ میں فرماتے ہیں کہ :۔
’’قال العلماء من المحدثین والفقھاء و غیرہم یجوز و یستحب العمل فی الفضائل والترغیب و الترھیب بالحدیث الضعیف مالم یکن موضوعاً
ترجمہ:۔ محدثین و فقہاء وغیرہم علماء نے فرمایا کہ فضائل و نیک بات کی ترغیب اور بری بات سے خوف دلانے میں حدیث ضعیف پر عمل جائز و مستحب ہے ، جب کہ موضوع نہ ہو ۔
(۳) محقق علی الاطلاق ، علامہ کمال الدین محمد بن الہمام مکی اپنی کتاب ’’ فتح القدیر‘‘ میں فرماتے ہیں کہ ’’
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع