30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوا ، حضور نے انکو بھی اپنی صلاۃ ودعا سے مشرف فرمایا۔ اور صحابہ کو ارشاد ہوا کہ اسکے لئے استغفار کرو ، وہ جنت میں داخل ہوا اس میں جہاں چاہے اپنے پروں سے اڑتاپھرتا ہے ۔
ان تینوں واقعات سے متعلق امام احمد رضا محدث بریلوی کی جو تحقیقات ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں ، لکھتے ہیں ۔
ان میں اول اور دوم بلکہ سوم کا بھی جنازہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے حاضر تھا تو نماز غائب پر نہ ہوئی بلکہ حاضر پر۔ اور دوم سوم کی سند صحیح نہیں اور سوم صلاۃ بمعنی نماز میں صریح نہیں ۔ ان کی تفصیل بعونہ تعالیٰ ابھی آتی ہے ۔ اگر فرض ہی کرلیجئے کہ ان تینوں واقعوں میں نماز پڑھی تو باوصف حضور کے اس اہتمام عظیم وموفور اورتمام اموات کے اس حاجت شدیدہ رحمت ونور قبور کے صدہا پر کیوں نہ پڑھی وہ بھی محتاج حضور وحاجتمند رحمت ونور اور حضور ان پر بھی رئوف ورحیم تھے ۔ نماز سب پر فرض عین نہ ہونا اس اہتمام عظیم کا جواب نہ ہوگا ۔ نہ تمام اموات کی اس حاجت شدیدہ کا علاج ۔حالانکہ حریص علیکم انکی شان ہے ۔دوایک کی دستگیری فرمانا اور صدہاکو چھوڑنا کب انکے کرم کے شایان ہے ۔ان حالات واشارات کے ملاحظہ سے عام طور پر ترک اور صر ف دو ایک بار وقوع خودہی بتادے گا کہ وہاں کوئی خصوصیت خاصہ تھی جس کا حکم عام نہیں ہوسکتا ۔ حکم عام وہی عدم جواز ہے جس کی بنا پر عام احتراز ہے۔ اب واقعہ بیر معونہ ہی دکھئے مدینہ طیبہ کے ستر جگر پاروں محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خاص پیاروں اجلۂ علمائے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو کفار نے دغاسے شہید کردیا ۔مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان کا سخت وشدید غم والم ہوا ۔ ایک مہینہ کامل خاص نماز کے اندر کفار ناہنجار پر لعنت فرماتے رہے مگر ہر گز منقول نہیں کہ ان پیارے محبوبوں پر نماز پڑھی ہو ۔ع آخر ایں ترک و ایں مرتبہ بے چیزے نیست ۔اہل انصاف کے نزدیک کلام تو اسی قدر سے تمام ہوا مگر ہم ان وقائع ثلثہ کا بھی باذنہ تعالیٰ تصفیہ کریں ۔
واقعہ اولیٰ سے متعلق لکھتے ہیں :۔
اولاً:۔کہ پہلی دونوں روایتیں (ابوہریرہ وعمران بن حصین )کی اس حدیث مرسل اصولی کی عاضد قوی ہیں جسکو امام واحدی نے اسباب نزول قرآن میں حضرت ابن عباس سے نقل کیا کہ۔
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیلئے نجاشی کا جنازہ ظاہر کردیا گیا تھا ، حضور نے اسے دیکھا اور اس پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع