30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پڑھی ۔ حدیث اس طرح ہے ۔
حضرت ابو امامہ باہلی فرماتے ہیں :۔
ان جبرئیل علیہ السلام اتی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقال : مات معاویۃ فی المدینۃ اتحب ان اطوی لک الارض فرفع لہ سریرہ فصل علیہ وخلفہ صفان من الملائکۃ کل صف سبعون الف ملک ۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میںحاضر ہوکر عرض کی : یارسول اللہ ! معاویہ بن معاویہ مزنی نے مدینہ میں انتقال کیا ، تو کیا حضور چاہتے ہیں کہ میں حضور کیلئے زمین لپیٹ دوں تاکہ حضور ان پر نماز پڑھیں ، فرمایا : ہاں جبرئیل نے اپنا پر زمین پر مارا ، جنازہ حضور کے سامنے آگیا ، اس وقت حضور نے ان پر نماز پڑھی ، فرشتوں کی دوصفیں حضور کے پیچھے تھیں ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے ۔
دوسری روایت میں اتنا اور زائد ہے کہ حضرت ابو امامہ نے فرمایا ، یہانتک کہ ہم نے مکہ مدینہ کو دیکھا ۔
اسی طرح حضرت انس کی روایت میں بھی ہے ۔
واقعہ سوم :۔ جنگ موتہ میںحضور نے حضرت زید بن حارثہ کو امیر لشکر بناکر بھیجا اور فرمایا اگر یہ شہید ہو جائیں تو جعفر طیار امیر ہونگے ، اور یہ بھی شہادت سے سرفراز ہوں تو عبداللہ بن رواحہ ، اور یہ بھی جام شہادت پی لیں تو تم لوگ جسکو چاہو اپنا امیر چن لینا ۔ جب جنگ شروع ہوئی تو حضور کے فرمانے کے مطابق ہوا ۔ حدیث مختصراً یوں ہے اور اسکے راوی عاصم بن عمر بن قتادہ اور عبداللہ بن ابی بکر ہیں ۔
لما التقی الناس بموتہ جلس رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم علی المنبر وکشف لہ مابینہ ومابین الشام فہو ینظر الی معرکتہم فقال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اخذ الرایۃ زیدبن حارثۃ فمضی حتی استشہدفصلی علیہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ودعالہ وقال : استغفروالہ وقد دخل الجنۃ فہو یطیر فیہا بجناحین حیث شاء ۔
جب مقام موتہ میں لڑائی شروع ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرماہوئے ،اللہ عزوجل نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیلئے پردے اٹھادیئے کہ ملک شام اور وہ معرکہ حضور دیکھ رہے تھے ، اتنے میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا : زید بن حارثہ نے نشان اٹھایا اور لڑتا رہا یہانتک کہ شہید ہوا ۔ حضور نے انہیں اپنی صلوۃ ودعا سے مشرف فرمایا اور صحابہ سے ارشاد ہوا اسکے لئے استغفار کرو ،بیشک وہ دوڑ تاہوا جنت میں داخل ہوا ۔ حضور نے پھر فرمایا : جعفر بن ابی طالب نے نشان اٹھایا اور لڑتا رہا یہانتک کہ شہید
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع