30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
برقرار رہے اور مخالف کج فہم کو گنجائش نہ ملے مگر یہ بات طرز عبارت کے ایک گونہ آداب سے تھی معناً تو قطعاً صحیح تھی لہذا اس کا فر کے بکنے کے بعد بھی چنداں لحاظ نہ فرمایا گیا یہاں تک کہ طفیل بن سخبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ خواب دیکھا اور رویائے صادقہ القائے ملک ہوتاہے اب اس خیال کی زیادہ تقویت ہوئی اور ظاہر ہوا کہ بارگاہ عزت میں یہی ٹھہراہے کہ یہ لفظ مخالفوں کا جائے طعن ہے بدل دیاجائے جس طرح رب العزت جل جلالہ نے راعنا کہنے سے منع فرمایا تھا کہ یہودوعنود اسے اپنے مقصد مردود کا ذریعہ کرتے ہیں اور اسکی جگہ انظرنا کہنے کا ارشاد ہواتھا ولہذا خواب میں کسی بندئہ صالح کو اعتراض کرتے نہدیکھا کہ یوں توبات فی نفسہ محل اعتراض ٹھہرتی بلکہ خواب بھی دیکھا تو انہیں یہود ونصاری اس امام الوہابیہ کے خیالوں کو معترض دیکھا تاکہ ظاہر ہوکہ صرف دہن دوزی مخالفان کی مصلحت داعی تبدیل لفظ ہے اب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خطبہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ یوں نہ کہو کہ اللہ ورسول چاہیں توکام ہوگا بلکہ یوں کہو کہ اللہ پھر اللہ کا رسول چاہے تو کام ہوگا (پھر) کا لفظ کہنے سے وہ توہم مساوات کہ ان وہابی خیالات کے یہود ونصاری یایوں کہیے کہ ان یہودی خیال کے وہابیوں کو گزرتاہے باقی نہ رہے گا ’’الحمد للہ علی تواتر آ لائہ والصلوۃ والسلام علی انبیائہ ‘‘ اہل انصاف ودین ملاحظہ فرمائیں کہ یہ تقریر منیر کہ فیض قدیر سے قلب فقیر پر القاہو ئی کیسی واضح ومستنیر ہے جسے ان احادیث کو ایک مسلسل سلک گوہرین میں منظوم کیا اور تمام مدارج ومراتب مرتبہ بحمداللہ تعالیٰ نورانی نقشہ کھینچ دیا الحمد للہ کہ یہ حدیث فہمی ہم اہل سنت ہی کا حصہ ہے وہابیہ وغیرہم بدمذہبوں کو اس سے کیا علاقہ ہے ’’ ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم ،والحمد للہ رب العلمین ۔( الامن والعلی۲۲۱)
Y فتاوی رضویہ جلد چہارم ص ۶۹؍ پر نجاشی شاہ حبشہ کی غائبانہ نماز جنازہ سے متعلق ایک حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرمائی جسکو صحاح ستہ کے حوالہ سے نقل فرمایا ۔ حدیث یہ ہے۔
ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نعی لہم النجاشی صاحب الحبشۃ فی الیوم الذی مات فیہ وقال : استغفروا لاخیکم وصف بہم فی المصلی فصلی علیہ وکبر علیہم اربعا ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شاہ حبشہ حضرت نجاشی کے انتقال کی خبر اسی دن سنائی جس دن ان کا وصال ہوا ، فرمایا: اپنے دینی بھائی کیلئے مغفرت کی دعاکرو ، پھر حضورنے ایسے میدان میں جہاں عموما عیدکی نماز ہوتی تھی صف بندی فرمائی اور نماز جنازہ پڑھتے ہوئے چار تکبیریں کہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع