30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں دوسرے کو خداکے ساتھ ’’اور ‘‘ کہکر ملایا تو کیا اور’’ پھر‘‘ کہکر ملایا تو کیا ۔شرک سے کیونکر نجات ہوجائے گی ۔مثلاً
زمین وآسمان کا خالق ہونا ، اپنی ذاتی قدرت سے تمام اولین وآخرین کا رازق ہونا خاص خدا کی شانیں ہیں ۔ کہ اگر کوئی یونہی کہے کہ اللہ ورسول خالق السموات والارض ہیں ، اللہ ورسول اپنی ذاتی قدرت سے رازق عالم ہیں ، جبھی شرک ہوگا ؟
اور اگر کہے کہ اللہ پھر رسول خالق السموات والارض ہیں ،اللہ پھر رسول اپنی ذاتی قدرت سے رازق جہاں ہیں تو شرک نہ ہوگا ۔
مسلمانو! گمرہوں کے امتحان کے لئے ان کے سامنے یونہی کہہ دیکھو کہ اللہ پھر رسول عالم الغیب ہیں ، اللہ کے رسول ہماری مشکلیں کھولدیں ، دیکھو تو یہ حکم شرک جڑتے ہیں یانہیں ۔
اسی لئے تو عیار مشکوۃ کی اس حدیث متصل صحیح ابی دائود کی میر بحری بچاگیا تھا جس میں لفظ ’پھر‘ کے ساتھ اجازت ارشاد ہوتی تھی ۔تو ثابت ہواکہ اس مردک کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہودی کا اعتراض پاکر بھی جو تبدیلی کی وہ خود شرک کی شرک ہی رہی ۔
یہ تو ان (امام الوہابیہ او راسکے اذیال واذناب) کے طور پر نتیجہ احادیث تھا ، ہم اہل حق کے طور پر پوچھو تو۔
اقول ۔وباللہ التوفیق ۔ بحمد اللہ تعالیٰ نہ صحابہ نے شرک کیا اور نہ معاذاللہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شرک سنکر گوارہ فرمایا ، کسی کے لحاظ پاس کو کام میں لانا ممکن تھا نہ یہودی مردک تعلیم توحید کرسکتا تھا ، بلکہ حقیقت امر یہ ہے کہ مشیت حقیقیہ ذاتیہ مستقلہ اللہ عزوجل کے لئے خاص ہے ،اور مشیت عطائیہ تابعہ لمشیۃ اللہ تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ نے اپنے عباد کو عطا کی ہے، مشیت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو کائنات میں جیسا کچھ دخل عظیم بعطائے رب جلیل وکریم جل جلالہ ہے وہ ان تقریرات جلیلہ سے کہ ہم نے زیر حدیث ۱۲۶؍ (حضرت علی کیلئے سورج پلٹانا ) ذکر کیں واضح وآشکار ہے ۔
جب اس یہودی خبیث نے جس کے خیالات امام الوہابیہ کے مثل تھے اعتراض کیا اور معاذ اللہ شرک کا الزام دیا حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رائے کریم کا زیادہ رجحان اسیطرف ہواکہ ایسے لفظ کو جس میں احمق بدعقل مخالف جائے طعن جانے دوسرے سہل لفظ سے بدل دیاجائے کہ صحابہ کرام کا مطلب تبرک وتوسل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع