30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہودی نے کہا : اے محمد آپ بہت عمدہ لوگ ہیں اگر اللہ کے برابر والا نہ ٹھہرایئے ۔
فرمایا : سبحان اللہ یہ کیا ؟ کہا: آپ کہتے ہیں : جو چاہے اللہ اور چاہو تم ۔ اس پر سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک مہلت تک کچھ نہ فرمایا بعد ہ فرمادیا ۔ اس یہودی نے ایسا کہا ہے تو اب جو کہے کہ جو چاہے اللہ تعالیٰ تو دوسرے کے چاہنے کو جداکرکے کہے کہ پھر چاہو تم ۔
ان تمام روایات کو نقل کرکے محدث بریلوی فرماتے ہیں :
امام الوہابیہ نے ان سب کو بالائے طاق رکھ کر شرح السنۃ کی ایک روایت منقطع دکھائی اور بحمداللہ اس میں بھی کہیں اپنے حکم شرک کی بو نہ پائی ۔ اب بحمد اللہ ملاحظہ کیجئے کہ یہ ہی حدیثیں اس کے دعوی شرک کو کس کس طرح جہنم رسید کرتی ہیں ۔
اولاً ۔احادیث سے ثابت کہ صحابہ کرام نے یہ جملہ کہ’’ اللہ ورسول چاہیں تو یہ کام ہوجائے یا اللہ اور تم چاہو تو ایسا ہوگا ‘‘ شائع وذائع تھا ۔ حضور اس پر مطلع تھے بلکہ عالم یہود کے ظاہرالفاظ تو یہ ہیںکہ خود حضور بھی ایسا فرماتے تھے اور امام الوہابیہ اس کو شرک کہتا ہے ۔ معاذاللہ تو اس کے نزدیک سب مشرک ہوئے ۔
ثانیاً۔حدیث طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں تو یہ بھی ہے کہ حضور نے فرمایا : اس لفظ کا خیال مجھے بھی گذرتاتھا مگر تمہارے لحاظ سے منع نہ کرتا تھا، تو معاذاللہ امام الوہابیہ کے نزدیک حضور نے دانستہ شرک کو گوارہ فرمایا اور صحابہ کے لحاظ پاس کو اس میں دخل دیا ۔
ثالثاً۔ گویا یہودی کے قول سے ممانعت ہوئی اور سچی توحید اس مشرک نے سکھائی ۔
رابعاً۔ قتیلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث سے تو یہ بھی ثابت کہ ایک عرصہ تک حضور نے ممانعت نہ فرمائی اور پھر خیال آیا ۔
خامساً۔ ان سب کے باوجود حضور نے جو تعلیم دی وہ یہ تھی کہ( اور) نہ کہا کرو بلکہ (پھر) کہا کرو ۔ یعنی شرک سے بچنے کی تعلیم ایسی دی کہ پھر بھی وہ شرک ہی ٹھہری۔ معاذاللہ ۔
ان تمام مواخذوں کے بعد معارضہ قائم کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
مسلمانو! للہ انصاف ، جو بات خاص شان الٰہی عزوجل ہے اور جس میں کسی مخلوق کو کچھ دخل نہیں اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع