30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے ان پر اعتراض کیا کہ تم حضرت عزیر علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا کا بیٹا کیوں کہتے ہو ۔ انہوںنے جواب میں کہا: تم خاص کامل لوگ ہو اگر یوں نہ کہو کہ جو چاہے اللہ اور چاہیں محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔ پھر کچھ نصاری ملے ان سے بھی اسی طرح کی گفتگو ہوئی۔ میں نے پورا خواب حضور کی خدمت میں عرض کیا ، حضور نے اسکے بعد خطبہ دیا اور حمد وثنائے الٰہی
کے بعد فرمایا :۔
انکم کنتم تقولون کلمۃ کان یمنعنی الحیاء منکم ان انہا کم عنہا ، لاتقولوا ماشاء اللہ وماشاء محمد ۔
تم لوگ ایک بات کہا کرتے تھے ، مجھے تمہارالحاظ روکتا تھا کہ تمہیں اس سے منع کردوں ، یوں نہ کہو جو چاہے اللہ اور جو چاہیں محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔
سنن نسائی میں قتیلہ بنت صیفی سے روایت ہے ۔
ان یہودیا اتی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقال انکم تندون وانکم تشرکون ، تقولون : ماشاء اللہ وشئت ، وتقولون والکعبۃ فامر ہم النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اذااراد وا ان یحلفوا ان یقولوا: ورب الکعبۃ، ویقول احد: ماشاء اللہ ثم شئت ۔
ایک یہودی نے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کی : بیشک تم لوگ اللہ کا برابر والا ٹھہراتے ہو ، بیشک تم لوگ شرک کرتے ہو ، یوں کہتے ہو کہ جو چاہے اللہ اور جوچاہوتم ، اور کعبہ کی قسم کھاتے ہو ۔ اس پر سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو حکم فرمایا قسم کھانا چاہیں تو یوں کہیں : رب کعبہ کی قسم ، اور کہنے والا یوں کہے جو چاہے اللہ پھر چاہوتم ۔
مسند احمد میں روایت یوں آئی کہ ۔
یہود کے ایک عالم نے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر ہوکر عرض کی ۔ اے محمد آپ بہت عمدہ لوگ ہیں اگر شرک نہ کریں ، فرمایا : سبحان اللہ ، یہ کیا؟ کہا: آپ کعبہ کی قسم کھاتے ہیں ۔ اس پر سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کچھ مہلت دی یعنی ایک مدت تک کچھ ممانعت نہ فرمائی ، پھر فرمایا: یہودی نے ایسا کہا تھا ، تو اب جو قسم کھائے وہ رب کعبہ کی قسم کھائے ۔
دوسری روایت میں اس طرح آیا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع