30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭ امام علی ابن المدینی نے کہا:۔
کسی اما م یا محدث کو ابن اسحاق پر جرح کرتے نہیں دیکھا ‘‘
٭ امام سفیان ابن عیینہ فرماتے ہیں :۔
میں ستر سال سے اوپر ابن اسحاق کی خدمت میں رہا ، اہل مدینہ میں سے کسی نے ان پر اتہام نہیں رکھا ، نہ ان پر تنقید کی ۔
٭ امام معاذ نے فرمایا :۔
’’ابن سحق سب لوگوں سے زیادہ یاد رکھنے والے تھے ۔‘‘
٭ امام ابو اللیث نے فرمایا :۔
یزید بن حبیب سے روایت کرنے والوں میں ابن اسحاق سے زائد ثبت کوئی نہیں ‘‘
ابن یونس فرماتے ہیں کہ ابن یزید بن حبیب سے اکابر علماء مصر نے روایت کی ، عمر وبن حارث ،حیوۃ ابن شریح، سعید ابن ایوب اور خود لیث بن سعد یہ سب کے سب ثقہ اور ثبت ہیں اور پانچویں یحیی بن ایوب غافقی صدوق ہیں اور رجال شیخین میں سے ہیں ۔اور عبداللہ بن مہیہ صدوق اور حسن الحدیث ہیں۔ ان کے بارے میں اسی امر پر ائمہ رجال کی رائے مستقر ہوئی اور عبداللہ بن عیاش ہیں یہ دونوں مسلم کے راویوں میں سے ہیں ، ان کے علاوہ سیلمان تیمی بصری ، زید بن ابی انیسہ یہ دونوں حضرات ثقہ اور رواۃ صحیحین میں سے ہیں افراد ہیں تو بقول امام ابواللیث ابن اسحق ان سب سے افضل ہوئے ۔
٭ امام شعبہ نے فرمایا :۔
’’ میری حکومت ہوتی تو میں ابن اسحاق کو محدثین پر حاکم بناتا ، یہ تو امیر المومنین فی الحدیث ہیں ، ایک روایت میں ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا ، آپ ایسا کیوں کہتے ہیں تو حضرت شعبہ نے فرمایا ان کے حفظ کی وجہ سے ، دوسری روایت میں ہے حدیث والوں میں اگر کوئی سردار ہوسکتاہے تو وہ محمد ابن اسحق ہیں ۔‘‘
٭ علی ابن المدینی سے روایت ہے :۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حدیثیں چھ آدمیوں میں منحصر ہیں پھر ان سب کے نام گنوایئے اور فرمایا اس کے بعد بارہ آدمیوں میں دائر ہیں اور ابن اسحاق ان بارہ میں ہیں
٭ امام زہری فرماتے ہیں :۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع