30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام احمد رضا محدث بریلوی نے ایک رسالہ ’’ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین ‘‘ تصنیف فرمایا جس میں حضور پر نور ، شافع یوم النشور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام اقدس کو سنکر انگو ٹھے چومنے کا جواز واستحباب ثابت فرمایا۔، مخالفین نے بعض محدثین کے اقوال کا سہارا لیکر یہ ثابت کرنے کی سعیٔ بے جا اور ناکام کوشش کی تھی کہ اس سلسلہ میں کوئی حدیث صحیح نہیں بلکہ موضوع و بے اصل ہے ۔لہذا یہ عمل شریعت میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔
امام احمدرضا قدس سرہ نے اس رسالہ نافعہ میں اصول حدیث کی وہ معرکۃ الآرا بحث فرمائی کہ ہر وہ شخص جو اس علم سے شغف رکھتاہے پڑھ کر جھوم اٹھے اور مخالف حیران و ششدر رہ جائے ۔
مقاصد حسنہ ، موضوعات کبیر اور رد المحتار میں بس اس قدر ہے کہ انگوٹھے چومنے کے سلسلہ میں کوئی مرفوع حدیث درجۂ صحت کو نہیں پہونچی ، بس کیا تھا مخالفین نے بے پر کی اڑادی کہ اس سلسلہ میں تمام روایت موضوع ومن گڑہت ہیں ۔ اس پر امام احمد رضا نے خوب جم کر نہایت نفیس بحث فرمائی جو فتاوی رضویہ میں تقریبا دوسو صفحات پر مشتمل ہے جس کی تلخیص کی بھی یہاں گنجائش نہیں پھر بھی ’’ مشتے نمونہ از خروارے ‘‘ کے طور پر چند اہم ، گوشوں کی نشاندھی قارئین کے ذوق کی تسکین کا باعث ضرور ہوگی ۔
فرماتے ہیں :۔
خادم حدیث پر روشن کہ اصطلاح محدثین میں نفی صحت نفی حسن کو بھی مستلزم نہیں نہ کہ نفی صلاح تماسک وصلوح تمسک، نہ کہ دعوی وضع وکذب ۔ عند التحقیق ان احادیث پر جیسے باصطلاح محدثین حکم صحت نہیں ،یوں ہی حکم وضع وکذب بھی ہر گز مقبول نہیں بلکہ بہ تصریح ائمۂ فن کثرت طرق سے جبر نقصان متصور اور عمل علماء قبول قدماء حدیث کے لئے قوی دیگر، اور نہ سہی تو فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بالا جماع مقبول ،اور اس سے بھی گذر یئے تو بلاشبہ یہ فعل اکابر دین سے مروی ومنقول اور سلف صالح میں حفظ صحت بصرو روشنائی چشم کیلئے مجرب ومعمول ، ایسے محل پر بالفرض اگر کچھ نہ ہو تو اسی قدر سند کافی بلکہ اصلا نقل بھی نہ ہو تو تجربہ وافی کہ آخر اس میں کسی حکم شرعی کا ازالہ نہیں ،نہ کسی سنت ثابتہ کا خلاف ،اور نفع حا صل تو منع باطل ، بلکہ انصاف کیجئیے تو محد ثین کا نفی صحت کو احادیث مرفوعہ سے خاص کرنا صاف کہہ رہا ہے کہ وہ احادیث موقوفہ کو غیر صحیح نہیں کہتے ۔پھر یہاں حدیث موقوف کیا کم ہے ولہذا مولانا علی قاری نے عبارت مذکورہ کے بعد فرمایا :۔
قلت واذا ثبت رفعہ الی الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فیکفی للعمل بہ لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام ’’
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع