30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صدر الشریعہ مولانا امجد علی صاحب اعظمی، ۱۲۹۶ھ/۱۳۶۷ھ
صدر الفاضل مولانا نعیم الدین صاحب مرادآبادی، ۱۳۰۰ھ/۱۳۶۷ھ
مولانا سید ابو البرکات الوری، ۱۳۱۶ھ
مولانا مفتی غلام جانی صاحب ہزاروی ، ۱۳۱۶ھ/۱۳۷۹ھ
مفسر اعظم مولانا ابراہیم رضا خانصاحب، بریلوی (نبیرہ اکبر) ۱۳۲۵ھ/۱۳۵۸ھ
امین الفتوی مولانا حاجی محمد لعل خانصاحب بیسلپوری، ۱۳۴۰ھ
شیر بیشۂ اہل سنت مولانا حشمت علی خانصاحب لکھنوی ثم پیلی بھیتی، ۱۳۸۰ھ
مولانا محمد شفیع صاحب بیسلپوری، ۱۳۳۸ھ
برہان ملت مولانا مفتی برہان الحق صاحب جبلپوری
مولانا عمر الدین صاحب ہزاروی، ۱۳۴۹ھ
انکے علاوہ آپ کے تلامذہ میں تقریباً سب آپ کے خلفاء ہیں ۔
فضل وکمال
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے جملہ علوم وفنون کی تکمیل چودہ سال کی عمر تک کرلی تھی جیسا کہ آپ پڑھ چکے ۔ اس کم سنی میں انہوں نے کتنے علوم وفنون کی سیر کی اسکی تفصیل کیلئے آپ کی تصانیف پڑھے بغیر صحیح اندازہ نہیں کیا جاسکتا ۔
اجمالی طور پر اتنا سمجھ لینا چاہیئے کہ آپ نے پچاس سے زیادہ علوم وفنون پر اپنی چھوٹی بڑی تقریباً ایک ہزار تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جنکا قدر معتد بہ حصہ منظر عام پر آچکا ہے اور پوری دنیائے علم وفن سے خراج تحسین حاصل کررہاہے ۔
آپ کے علم وفضل کا اعتراف صرف عقیدت مند اور مدح خواں حضرات ہی نہیں کرتے ،مدارس اسلامیہ اور مساجد تک ہی آپ کے علمی کمالات کے چرچے محدود نہیں ، محض منبرواسٹیج ہی پر انکے فضل وکمال کا خطبہ نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع