30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خبر ارتحال :۔ ۲۵؍ صفر ۴۰ھ کو لوگ بعد نما فجر حسب معمول مزاج پرسی کے لئے آئے تو اعلی حضرت قبلہ کی طبیعت اس قدر شگفتہ اور بحال تھی کہ لوگوں کو مسرت ہوئی ۔
مولوی اکرام الحق کا خواب:۔ اور یہی حالت رحلت تک رہی میں یہاں سے صحت کی خوشخبری سنانے قاری خانہ میں مولوی اکرام الحق گنگوہی مدرس مدرسہ منظر اسلام (جو خیر آبادی خاندان میں مولانا حکیم برکات احمد صاحب ٹونکی مرحوم کے شاگرد رشید تھے ،معقول وفلسفہ وکتب اصول بہت اچھی پڑھا تے تھے اور اعلی حضرت قبلہ کے چاہنے والوں میں سے تھے ) کے پاس گیا ،انکو ان کے بستر پر رضائی میں منھ لپیٹے روتے پایا ،میں نے ان سے کہا کہ اعلی حضرت قبلہ کو آج آثار صحت شروع ہوگئے تو آپ دیکھنے بھی نہ گئے ،اس پر انکی سسکی بندھ گئی اور زیادہ رونے لگے ،میں نے انہیں چپ کرایا اور رونے کی وجہ دریافت کی ،انہوں نے اپنا خواب سنایا، فرمایا کہ میں نے آج ہی صبح صادق کے وقت دیکھا ہے کہ بہت سے علماء واولیاء ایک جگہ جمع ہیں اور وہ سب رنجیدہ اور مغموم معلوم ہوتے ہیں ۔میں نے رنج وغم کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ آج مولانا احمد رضا خانصاحب دنیا سے رخصت ہورہے ہیں ۔انداز بیان سے یہ معلوم ہوتاتھا کہ اس دورنا ہنجار میں اعلی حضرت کا دنیا سے جانا ان حضرات پر گراں تھا ،ان میں بعض میرے دور کے وہ حضرات بھی تھے جنھیں میں نے پہچانا ،میں نے انکی زیارت کی ہے ۔میں مولوی اکرام الحق صاحب مرحوم کے اس خواب کو خواب وخیال کہہ کر ٹالتا رہا اور انکے دل سے اس صدمہ کو ہٹاتا رہا بالآخر انہوں نے مجھ سے کہہ دیا کہ میں علما و صلحاکے اس جم غفیر کے مقابلے میں آپ کے
تخمینی خیال کی تائید نہیں کرسکتا ۔
رحلت کے آثار اور وصایا:۔ابتداء علالت سے یہ دستور رہا کہ جب لوگ اندر مکان
میں حاضر ہوتے تو سلام ودست بوسی کے بعد صرف ایک شخص مزاج پرسی کرتا ،آپ شکر اداکرتے اور مختصر حال بیان فرمادیتے ،اس دوران میں اگر کوئی مسئلہ دریافت کرتا اس کا جواب دیتے ،صبروشکر کی تلقین فرماتے اور ان مجالس عیادت میں سفر آخرت کا زیادہ ذکر رہتا ۔خود روتے دوسروں کو رلاتے اور سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یاد تو مدت العمر ان کی ہر صحبت میں ہر تقریر کا موضوع ہی رہی ۔وہ موقع بموقع ضرور ہوا کرتی دوران علالت کی صحبتوں میں یہ بھی بارہا فرمایاکہ رب العزت کا فضل مانگو وہ اگر عدل فرمائے توہمارا تمہارا کہیں ٹھکانہ نہ لگے ۔اولیاء کرام کے قصص اکثر مثال کے طور پر پیش فرماتے ۔اس جمعہ کو بھی یہ مجلس تذکیر دیر تک رہی آج بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع