30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قارئین ان کی سنہ ولادت کا استخراج اور اسکی توجیہ پڑھ چکے ہیں اب دونوں کو جمع کیجئے تو صاف ظاہر ہوگا کہ سنہ ولادت کی آیت کریمہ انکے ایمان راسخ کا پتہ دیتی ہے تو اس پر مرتب ہونے والا نتیجہ بفضلہ تعالیٰ آخرت میں یہ ہی ہوگا کہ جنت کی ابدی راحتوں میں سونے چاندی کے ساغر وصراحی لئے حوروغلماں ان پر پیش ہوتے رہیںگے اور یہ دورہمیشہ چلتا رہے گا ۔
مولانا حسنین رضا خاں صاحب لکھتے ہیں :۔
اس بار آپ جب بھوالی سے تشریف لائے تو علالت کا کسی قدر سلسلہ چل رہا تھا اپنے پیرومرشد سیدنا آل رسول مارہر وی کا عرس کیا اور عرس میں حسب معمول تقریر فرمائی۔ اس تقریر میں از اول تاآخر مسلمانوں کو نصیحتیں ہی فرمائیں ،آخر میں یہ بھی فرمایا کہ آئندہ ہمیں تمہیں شاید ایسا موقع نہ ملے ۔ اس لئے جو یہاں موجود ہیں وہ بغور سنیں اور جو موجود نہیں ہیں انہیں میرے الفاظ پہونچادیں ۔اس پر سارا جلسہ بد حواس ہوکر رونے لگا پھر تسکین دی اور فرمایا کہ خدا میں سب قدرت ہے وہ چاہے تو ہم تم اسی طرح باربار جمع ہوں ۔غرضیکہ آج لوگ متنبہ ہوگئے کہ اب ہم میں رہنے والے نہیں ،اب لوگوں نے بیعت ہونے کی جلدی کی ہروقت آستانۂ رضویہ پر مرید ہونے والے مردوں اور عورتوں کا جم غفیر رہنے لگا تو حکم دیا کہ میری طرف سے مردوں کو حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خانصاحب مرید کریں اور عورتوں کو مفتیٔ اعظم مولانا مصطفی رضا خانصاحب بیعت کریں ۔ یہ سلسلہ روز وفات تک برابر جاری رہا ۔باہر کے لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ بھی آکر بیعت ہوئے ۔یوم وفات سے دوروز قبل سہ شنبہ کے روز اعلی حضرت پر تپ لرزہ کا حملہ محسوس ہوا اس سے دفعۃً کمزوری بڑھ گئی اور اتنی بڑھی کہ نبض غائب ہوگئی ،اس وقت جناب حکیم حسین رضا خانصاحب بھی حاضر تھے ان سے فرمایا کہ نبض تو دیکھو انہوں نے نبض دیکھی تو وہ ڈوب چکی تھی ۔انہوں نے گھبراکے عرض کیا کہ کمزوری کے سبب نبض نہیں ملتی ۔فرمایا آج کیا دن ہے؟ حاضرین میں سے کسی نے عرض کیا: چہار شنبہ ہے، اس پر فرمایا جمعہ پرسوں ہے اور یہ فرماکر کف افسوس ملتے جاتے اور حسبنا اللہ و نعم الوکیل پڑھتے جاتے یہ سب کچھ ان کا پیار ارب دیکھ رہا تھا اس نے اس کمزوری کے حملے کو آن کی آن میں دفع فرمادیا اور طبیعت بدستور سہولت پر آگئی ۔اب حاضرین رخصت ہونے لگے پھر دودن طبیعت خوشگوار رہی یہاں تک کہ جمعہ کے روز جب نماز فجر کے بعد مزاج پرسی کیلئے لوگ اندر گئے ہیں تو اعلی حضرت قبلہ کو کافی پرسکون پایا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع