30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو دنیا کی بھلائی سے بعض مفسرین نے ایک پاکدامن ہمدرد اور شوہر کی جاں نثار بیوی مراد لی ہے ۔
ہماری اماں جان عمر بھر اس دعا کا پورا اثر معلوم ہوتی رہیں۔ اپنے دیوروں اور نندوں کی اولاد سے بھی اپنے بچوں جیسی محبت فرماتی تھیں ۔ گھرانے کے اکثر بچے انہیں اماں جان ہی کہتے تھے ۔ اب کہاں ایسی پاک ہستیاں۔ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا و علی بعلہا و ابنیہا۔
بیعت و خلافت ۔ نیز فرماتے ہیں ۔
ایک روز اعلی حضرت قبلہ کسی خیال میں روتے روتے سو گئے اس لئے کہ قیلولہ
( دوپہر کو لیٹنا جو سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت ہے ) اس خاندان میں ا ب تک رائج ہے ۔ اعلی حضرت قبلہ بھی اس سنت پر مدۃ العمر عامل رہے ۔ خواب میں اعلیحضرت قبلہ کے دادا حضرت مولانا رضا علی خاں صاحب تشریف لائے اور فرمایا : وہ شخص عنقریب آنے والا ہے جو تمہارے اس درد کی دوا کرے گا ۔ چنانچہ اس واقعہ کے دوسرے یا تیسرے روز تاج الفحول حضرت مولانا عبد القادر صاحب بدایونی علیہ الرحمہ تشریف لائے، ان سے بیعت کے متعلق مشورہ ہوا اور یہ طے ہوا کہ جلد ہی مارہرہ شریف چل کر بیعت ہو جانا چاہئیے۔ چنانچہ یہیں سے یہ تینوں حضرات مارہرہ شریف کو چل پڑے ( اعلی حضرت اورانکے والد ماجد اور
حضرت مولانا عبد القادر صاحب )
جب حضرت مارہرہ شریف پہونچے اور آستانۂ عالیہ برکاتیہ پر حاضری ہوئی تو وہاں کے صاحب سجادہ حضرت سیدنا و مولانا آل رسول سے اعلی حضرت قبلہ اور انکے والد ماجد کی پہلی ملاقات ہوئی توانہو ں نے اعلی حضرت قبلہ کو دیکھتے ہی جو الفاظ فرمائے تھے وہ یہ تھے ۔ آئیے ہم تو کئی روز سے آپ کے انتظار میں تھے ۔ اعلی حضرت اور انکے والد ماجد بیعت ہوئے اور مرشد برحق نے تمام سلاسل کی اجازت عطا فرما کر تاج خلافت اعلی حضرت کے سر پر اپنے دست کرم سے رکھ دیا ۔ یوں یہ خلش جس کے لئے اعلی حضرت روتے تھے رب العزت نے نکال دی ۔ شریعت کی تعلیم و تربیت باپ سے ملی تھی اور طریقت کی تکمیل پیرو مرشد نے کرا دی ۔ اس وقت اعلی حضرت قدس سرہ شریعت و طریقت دونوں کے امام ہو گئے ۔
زندہ باد اعلی حضرت زندہ باد ۔
بعض مریدین نے جو اس وقت حاضرتھے حضرت سیدنا آل رسول قدس سرہ سے عرض کیا :کہ حضور اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع