30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد جب حروف تہجی کی تختی پڑھانا شروع کی تو آپ تمام حروف پڑھکر ’لا‘ پر جاکر رک گئے اور عرض کیا : الف اور لام تو میں پڑھ چکا یہاں دو بارہ پڑھانے کی کیا ضرورت ہے ؟ فرمایا : جو تم نے الف کی صورت میں پڑھا وہ ہمزہ تھا ۔ چونکہ الف ہمیشہ ساکن ہوتاہے لہذا اسکا تنہا تلفظ نہیں ہوسکتا ۔اب لام کے ساتھ ملاکر اسکو پڑھا یاجارہا ہے ۔
عرض کی : پھر تو کسی بھی حرف کے ساتھ ملاکر پڑھایاجاسکتا تھا۔ اس لام کی کیا خصوصیت تھی ؟
جد امجد حضرت علامہ رضاعلی خانصاحب قبلہ علیہ الرحمہ بھی مجلس میں موجود تھے ۔آپ نے فرمایا : الف اور لام میں صورت اور سیرت کے اعتبار سے ایک خاص منا سبت ہے ۔صور ۃ تو اس طرح کہ ’لا‘ اور ’لا‘ لکھا جاتاہے ،اورسیرۃ ًاس لئے کہ الف اور لام کا جب تلفظ کرو توایک کودوسرے کے قلب اور بیچ میں لکھوگے ۔ لہذا دونوں میں قلبی تعلق ہے ۔ الف کے بیچ میں ’ل‘ ہے اور لام کے بیچ میں ’ا‘ہے ۔ یہ جواب دیکر جدامجد نے وفور مسرت میں گلے سے لگالیا ، وہ اپنی
فراست ایمانی اور مکاشفہ روحانی سے یہ سمجھ گئے تھے کہ یہ بچہ آگے چل کر کچھ ہوگا۔
قرآن کریم ناظرہ پڑھ رہے تھے کہ ایک دن استاذ محترم نے کسی مقام پر کچھ اعراب بتایا آپ نے استاذ کے بتانے کے خلاف پڑھا۔ انہوں نے دوبارہ کرخت آواز سے بتایا آپ نے پھر وہی پڑھا جو پہلے پڑھاتھا۔ آپ کے والد ماجد جو قریب ہی کے کمرے میں بیٹھے تھے انہوں نے سپارہ منگاکر دیکھا تو سپارہ میں استاذ کے بتانے کے موافق تھا۔ آپ بھی وہاں چونکہ کتابت کی غلطی محسوس کررہے تھے آپ نے قرآن پاک منگایا اس میں وہی اعراب پایا جو اعلی حضرت نے باربار پڑھا تھا ۔باپ نے بیٹے سے دریافت کیا کہ تمہیں جو استادبتاتے تھے وہی تمہار ے سپا رے میں بھی تھا تم نے استاذ کے بتانے کے بعد بھی نہیں پڑھا ۔اعلی حضرت نے عرض کیا:میں نے ارادہ کیا کہ اپنے استاذ کے بتانے کے موافق پڑھوں مگر زبان نے یارانہ دیا ۔ اس پر ان کے والد ماجد وفور مسرت سے آبدیدہ ہوگئے اور خداکا شکر ادا کیا کہ اس بچے کو ماانزل اللہ کے خلاف پر قدرت ہی نہیں دی گئی ہے ۔یہ تھے آثار مجددیت ۔
ایک روز صبح کو بچے مکتب میں پڑھ رہے تھے ان میں اعلی حضرت بھی شامل تھے ایک آنے والے بچے نے استاد کو بایں الفاظ سلام کیا ،’السلام علیکم ‘استاد صاحب نے جواب میں کہا جیتے رہو آپ نے فوراً استاذصاحب سے عرض کیا کہ یہ تو جواب نہ ہوا، انہوں نے پوچھا کہ اس کا جواب کیا ہے؟ اعلی حضرت نے عرض کیا: اس کا جواب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع