30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دنیا مزار حشر جہاں ہیں غفو ر میں
ہرمنزل اپنے ماہ کی منزل غفر کی ہے
عہد طفلی: ۔آپ کابچپن نہایت ناز ونعم میں گذرا ۔فطری طور پر ذہین تھے اور حافظہ نہایت قوی
وقابل رشک پایا تھا۔ کبھی بچوں کے ساتھ نہ کھیلتے ۔محلہ کے بچے کبھی کھیلتے ہوئے گھر آجاتے تو آپ انکے کھیل میں کبھی شریک نہ ہوتے بلکہ انکے کھیل کو دیکھا کرتے ۔طہارت نفس ،اتباع سنت ،پاکیزہ اخلاق اور حسن سیرت جیسے اوصاف آپکی ذات میں بچپن ہی سے ودیعت تھے ۔
آپکی زبان کھلی تو صاف تھی ،عام طور پر بچوں کی طرح کج مج نہ تھی ،غلط الفاظ آپکی زبان پر کبھی نہ آئے اور نہ کسی نے سنے ۔
امام احمد رضاقدس سرہ نے خود فرمایا : میں اپنی مسجد کے سامنے کھڑاتھا ،اس وقت میری عمر ساڑھے تین سال ہوگی ،ایک صاحب اہل عرب کے لباس میں ملبوس جلوہ فرماہوئے ،یہ معلوم ہوتا تھا کہ عربی ہیں ،انہوں نے عربی زبان میں مجھ سے گفتگو بھی فرمائی ،میں نے انکی زبان میں ان سے گفتگوکی ،میں نے ان بزرگ ہستی کو پھر کبھی نہ دیکھا ۔(۸)
ایک مرتبہ طفولیت کے زمانہ میں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے اعلی حضرت قدس سرہ کو سر سے پائوں تک دیکھا اور کئی باردیکھنے کے بعد فرمایا : تم رضا علی خانصاحب کے کون ہو؟ آپ نے جواب دیا ، میں ان کا پوتا ہوں ۔فرمایا: جبھی ،اور فوراً تشریف لے
گئے ۔(۹)
اعلی حضرت قدس سرہ کی عمر تقریباً ۵؍۶؍ سال کی ہوگی ،اس وقت صرف ایک بڑا کرتہ پہنے ہوئے باہر تشریف لائے ، اسی دوران سامنے سے چند طوائف زنان بازاری گذریں ،آپ نے فوراً کرتے کا اگلا دامن دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر چہرئہ مبارک کو چھپالیا ۔یہ کیفیت دیکھ کر ان میں سے ایک بول اٹھی ،واہ میاں صاحبزادے ،منہ تو چھپا لیا اور ستر کھولدیا ۔آپ نے برجستہ جواب دیا ، جب نظر بہکتی ہے تو دل بہکتا ہے اور جب دل بہکتاہے تو ستر بہکتاہے ۔یہ حکیمانہ جواب سنکر وہ سکتہ میں رہ گئی ۔(۱۰)
تعلیم وتربیت ۔ آپکی تعلیم کا آغاز ہواتو پہلے ہی دن ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔استاذ محترم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع