30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے پہلے مسند افتاء کو رونق بخشی ، تو اس خاندان کے ہاتھ سے تلوار چھوٹی اور تلوار کی جگہ قلم نے لے لی ۔اب اس خاندان کا رخ ملک کی حفاظت سے دین کی حمایت کی طرف ہوگیا ۔وہ اپنے دور میں مرجع فتاوی رہے۔ انہوں نے خطب جمعہ وعیدین لکھے جو آج کل خطب علمی کے نام سے ملک بھر میں رائج ہیں ۔یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اس خاندان کے مورث اعلی مولانارضاعلی خاں صاحب کے خطبے جو خطب علمی کہلاتے ہیں وہ مولانا رضاعلی خاں صاحب کے ہی تصنیف کر دہ ہیں اور کم وبیش ایک صدی سے سارے ہندوستان کے طول وعرض میں جمعہ وعیدین کو پڑھے جاتے ہیں ۔اور ہر مخالف وموافق انہیں پڑھتا ہے ۔ان کو شہرت سے انتہائی نفرت تھی اس لئے انہوں نے خطبے اپنے شاگرد مولانا علمی کودے دیئے مولانا علمی نے خود بھی اس طرف اشارہ کیا ہے البتہ خطب علمی میں اشعار مولانا علمی کے ہیں اور مولانا رضا علی خاں صاحب مرجع فتاوی بھی رہے ۔
خطب علمی کو رب العزۃ نے وہ شان قبولیت عطافرمائی کہ آج تک کوئی خطبہ اس کی جگہ نہ لے سکا ۔اس دور میں بہت سے خطبے لکھے گئے عمدہ کرکے چھاپے گئے کوشش سے رائج کئے گئے مگر وہ قبول عام کسی کو آج تک نصیب نہ ہوا اورنہ آئندہ کسی کو امید ہے کہ وہ خطب علمی کی جگہ لے سکے گا ۔جب انکے بیٹے مولانا نقی علی خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے سند تکمیل
حاصل کرلی تو افتاء اور زمینداری یہ دونوں کام مولانا نقی علی خاں کے سپرد ہو گئے ۔(۶)
۱۲۸۲ھ میں وصال ہوااور سٹی قبرستان میں مدفون ہوئے ۔
کشف وکرامات ۔ حضرت کا گذر ایک روز کوچہ سیتارام کی طرف سے ہوا ہنود کے تہوار
ہولی کا زمانہ تھا ایک ہندنی بازاری طوائف نے اپنے بالا خانہ سے حضرت پر رنگ چھوڑدیا یہ کیفیت شارع عام پر ایک جوشیلے مسلمان نے دیکھتے ہی بالا خانہ پر جاکر تشدد کرنا چاہا مگر حضور نے اسے روکا اور فرمایا : بھائی کیوں اس پر تشدد کرتے ہو اس نے مجھ پررنگ ڈالا ہے۔خدا اسے رنگ دے گا۔ یہ فرمانا تھا کہ وہ طوائف بیتابانہ قدموں پر گر پڑی اور معافی مانگی اور اسی وقت
مشرف باسلام ہوئی حضرت نے وہیں اس نوجوان سے اس کا عقد کردیا ۔
۱۸۵۷ء کے بعد جب انگریزوں کا تسلط ہوا اور انہوں نے شدید مظالم کئے تو لوگ ڈر کے مارے پریشان پھرتے تھے ۔بڑے لوگ اپنے اپنے مکانات چھوڑ کر گائوں وغیرہ چلے گئے لیکن حضرت مولانا رضاعلی خاں صاحب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع