30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سلسلہ نسب یوں ہے ،امام احمد رضا بن مولانا نقی علی خاں بن مولانا رضاعلی خاں بن حافظ کاظم علی خاں بن محمد اعظم خاں بن سعادت یار خاں بن سعید اللہ خاں ولی عہد ریاست
قند ھار افغانستان وشجاعت جنگ بہادر علیھم الرحمۃ والرضوان ۔
ولادت ،۱۰؍ شوال المکرم ۱۲۷۲ھ /۱۴؍جون ۱۸۵۶ ئ/۱۱؍جیٹھ ۱۹۱۳سدی بروز شنبہ بوقت ظہر بمقام محلہ جسولی بریلی (انڈیا) میں ہوئی ۔
آپکے اجداد میں سعید اللہ خاں شجاعت جنگ بہادر پہلے شخص ہیں جو قندھار سے ترک وطن کرکے سلطان نادر شاہ کے ہمراہ ہندوستان آئے اور لاہور کے شیش محل میں قیام فرمایا ۔
علامہ حسنین رضاخاں علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ۔
یہ روایت اس خاندان میں سلف سے چلی آرہی ہے کہ اس خاندان کے مورث اعلی والیان قندھار کے خاندان سے تھے ۔شہزادہ سعید اللہ خاں صاحب ولی عہد حکومت قندھار کی والد ہ کا انتقال ہوچکا تھا۔ سوتیلی ماں کا دوردورہ ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے کیلئے ولی عہدی کی جگہ حاصل کر نے کے سلسلے میں ان باپ بیٹوں میں اتنا نفاق کرادیا کہ شہزادہ سعید اللہ خاں صاحب ترک وطن پر مجبور ہوگئے ۔ان کے چند دوستوں نے بھی اس ترک وطن میں ان کا ساتھ دیا ۔ یہ ساری جماعت قندھار سے لاہور آگئی ۔لاہور کے گورنر نے دربار دہلی کو اطلاع دی کہ قندھار کے ایک شہزادے صاحب کسی کشید گی کی وجہ سے ترک وطن کرکے لاہور آگئے ہیں اس کے جواب میں انکی مہمان نوازی کا حکم ہوا اور لاہور کا شیش محل ان کو رہائش کے لئے عطا ہوا جوآج بھی موجود ہے ۔ان کی شاہی مہمان نوازی ہونے لگی ۔انہیں اپنے مستقبل کے لئے کچھ کرنا ضروری تھا وہ جلدی ہی دہلی آگئے یہاں انکی بڑی عزت ووقعت ہوئی ۔چند ہی دنوں میں وہ فوج کے کسی بڑے عہدے پر ممتاز ہوگئے اور انکے ساتھیوں کو بھی فوج میں مناسب جگہیں مل گئیں ۔یہ منصب انکی فطرت کے بہت مناسب تھا۔ جب روہیل کھنڈ میں کچھ بغاوت کے آثار نمودار ہوئے تو باغیوں کی سرکوبی ان کے سپرد ہوئی ۔ اس بغاوت کے فرو ہونے کے بعد ان کو روہیل کھنڈ کے صدر مقام بریلی میں قیام کرنے اور امن قائم رکھنے کا حکم ہوگیا ۔یہاں انہیں صوبہ دار بنادیا گیا جو گورنر کے مترادف ہے ۔اس ضلع میں انکو ایک جاگیر عطا ہوئی جو غدر
۱۸۵۷ ء میں ضبط ہوکر تحصیل ملک ضلع رامپور میں شا مل کردی گئی ہے ۔اس جاگیر کا مشہور اور بڑا موضع وہنیلی تھا جواب موجود ہے ۔بریلی کی سکونت اس لئے مستقل ہوگئی کہ اسی دور میں کوہستان روہ کے کچھ پٹھان خاندان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع