30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معین نہیں کیا گیا بلکہ مذاہب اربعہ میں دائرومنحصر رکھاگیا ،البتہ مذاہب اربعہ کی تحقیق وتفتیش اور چھان بین کے بعد جب ترجیح کا وقت آیا اور اس کی جستجو کے لئے آپ کی روح مضطرب ہوئی تودرباررسالت سے اس طور پر رہنمائی کی گئی ۔
عرفنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان فی المذہب الحنفی طریقۃ انیقۃ ھی ادق الطرق بالسنۃ المعروفۃ التی جمعت ونقحت فی زمان البخاری واصحابہ وذلک ان یوخذ من اقوال الثلثۃ (ای الامام وصاحبیہ ) قول اقربھم بھا فی المسئلۃ ثم بعد ذلک یتبع اختیارات الفقہاء الحنفیین الذین کانوا من علماء الحدیث فرب شیٔ سکت عنہ الثلثۃ فی الاصول وما یعرضوانفیہ ودلت الاحادیث علیہ فلیس بد من اثباتہ والکل مذہب حنفی ۔
آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ مذہب حنفی میں ایک ایسا عمدہ طریق ہے جودوسرے طریقوں کی بہ نسبت اس سنت مشہور ہ کے زیادہ موافق ہے جس کی تدوین اور تنقیح امام بخاری اور ان کے اصحاب کے زمانہ میں ہوئی اور وہ یہ ہے کہ ائمہ ثلاثہ یعنی امام ابوحنیفہ ،ابویوسف،اور محمد میں سے جس کا قول سنت معروفہ سے قریب تر ہو ،لے لیا جائے پھر اس کے بعد ان فقہاء حنفیہ کی پیروی کی جائے جو فقیہ ہونے کے ساتھ حدیث کے بھی عالم تھے۔ کیونکہ بہت سے ایسے مسائل ہیں کہ ائمہ ثلثہ نے اصول میں ان کے متعلق کچھ نہیں کہا اور نفی بھی نہیں کی لیکن احادیث انہیں بتلارہی ہیں تولازمی طور پر اس کو تسلیم کیا جائے اور یہ سب مذہب حنفی ہی ہے ۔
اس عبارت سے یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ حضرت شاہ صاحب کو درباررسالت سے کس مذہب کی طرف رہنمائی کی گئی نیز سارے مذاہب میں کون اوفق بالسنۃ المعروفۃ ہے ۔ ظاہر ہے کہ وہ مذہب حنفی ہی ہے جیسا کہ فیوض الحرمین کی اس عبارت سے معلوم ہوا تو بلاشبہ حضرت شاہ صاحب کے نزدیک وہی قابل ترجیح اور لائق اتباع ہے ۔
تقلید حنفیت کا واضح ثبوت ۔ خدا بخش لائبریری (پٹنہ ) میں بخاری شریف کا ایک قلمی
نسخہ موجود ہے جو شاہ صاحب کے درس میں رہاہے ۔اس میں آپ کے تلمیذ محمد بن پیر محمدبن شیخ ابو الفتح نے پڑھا ہے، تلمیذ مذکور نے درس بخاری کے ختم کی تاریخ ۶؍ شوال ۱۱۵۹ھ لکھی ہے اور جمنا کے قریب جامع فیروزی میں ختم ہونا لکھاہے ۔حضرت شاہ صاحب نے اپنے دست مبارک سے اپنی سند امام بخاری تک تحریر فرماکر تلمیذ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع