30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شیخ کی علمی خدمات کا ایک شاندار پہلو یہ ہے کہ انہوں نے تقریباً نصف صدی تک فقہ وحدیث میں تطبیق کی اہم کو شش فرمائی ۔بعض لوگوں نے اس سلسلہ میں انکی خدمات کو غلط رنگ میں پیش کیا ہے ۔
مثلا نواب صدیق حسن خاں لکھتے ہیں: ۔
فقیہ حنفی وعلامہ دین حنفی است ،اما بمحدث مشہور است ۔
شیخ محقق فقہاء احناف سے تھے اور دین حنیف کے زبر دست عالم ۔لیکن محدث مشہور ہیں۔ یعنی یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ شہرت واقعی نہ تھی ،گویا محدث ہونا اسی صورت میں متصور ہوتاہے جب کسی امام کی تقلید کا قلادہ گردن میں نہ ہو۔
مزید لکھتے ہیں: ۔
دستگاہش درفقہ بیشتر ازمہارت درعلوم سنت سنیہ ست ۔ولہذا جانب داری اہل رائے جانب اوگرفتہ ۔معہذا جاہا حمایت سنت صحیحہ نیز نمودہ ۔طالب علم راباید کہ درتصانیف وے ’’ خذما صفا ودع ماکدر ‘‘ پیش نظر دارد وزلات تقلید اورابر محامل نیک فرود آرد۔از سوء ظن در حق چنیں بزرگواراں خود را دور گرداند ۔
شیخ علم فقہ میں بہ نسبت علوم سنت زیادہ قدرت رکھتے تھے ،لہذا فقہاء رائے زیادہ تر انکی حمایت کرتے ہیں ،ان تمام چیزوں کے باوجود انہوں نے سنن صحیحہ کی حمایت بھی کی ہے ۔
لہذا طالب علم کو چاہیئے کہ انکی صحیح باتیں اختیار کرے اور غیر تحقیق باتوں سے پرہیز کرے ۔لیکن انکے تقلید ی مسائل کو اچھے مواقع ومحامل پر منطبق کرنا چاہیئے ۔اسے بزرگوں سے بد گمانی اچھی چیز نہیں ۔
اہل علم پر واضح ہے کہ یہ رائے انصاف ودیانت سے بہت دور اور پر تشدد خیالات کو ظاہر کرتی ہے ۔
شیخ محدث کا اصل مقصد یہ تھا کہ فقہ اسلامی کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیئے۔ اس لئے کہ اسکی بنیاد قرآن وحدیث پر ہے اور وہ ایک ایسی روح کی پید اوار ہے جس پر اسلامی رنگ چبڑہاہوا ہے ،خاص طور پر فقہ حنفی پر یہ اعتراض کہ وہ محض قیاس اور رائے کا نام ہے بالکل بے بنیاد ہے ،اسکی بنیاد مستحکم طور پر احادیث پر رکھی گئی ہے ۔مشکوۃ کا گہرا مطالعہ فقہ حنفی کی
بر تریت کو ثابت کرتاہے ۔
ایسے دور میں جبکہ مسلمانوں کا سماجی نظام نہایت تیزی سے انحطاط پذیر ہورہا تھا ۔ جب اجتہاد گمراہی پھیلانے کا دوسرا نام تھا ،جب علماء سوکی حیلہ بازیوں نے بنی اسرائیل کی حیلہ ساز فطرت کو شرمادیا تھا ،سلاطین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع