30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہدایتیں کی تھیں جس پر آپ تمام عمر عمل پیرارہے ،قرآن کریم کی تعلیم سے لیکر کافیہ تک والد ماجد ہی سے پڑھا ۔
شیخ سیف الدین اپنے بیٹے کی تعلیم خود اپنی نگرانی میں مکمل کرانے کیلئے بے چین رہتے تھے ،انکی تمنا تھی کہ وہ اپنے جگر گوشہ کے سینہ میں وہ تمام علوم منتقل کردیں جو انہوں نے عمر بھر کے ریاض سے حاصل کئے تھے ،لیکن انکی پیرانہ سالی کا زمانہ تھا ،اس لئے سخت مجبور بھی تھے کبھی
کتابوں کا شمار کرتے اور حسرت کے ساتھ کہتے کہ یہ اور پڑھالو ں ۔پھر فرماتے ۔
مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے جس وقت یہ تصور کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تجھ کو اس کمال تک
پہونچادے جو میں نے خیال کیا ہے ۔
شیخ محدث خود بے حد ذہین تھے ، طلب علم کا سچا جذبہ تھا ، بارہ تیرہ برس کی عمر میں شرح شمسیہ اورشرح عقائد پڑ ھ لی اور پندرہ برس کی عمر ہوگی ،کہ مختصر ومطول سے فارغ ہوئے ،اٹھا رہ برس کی عمر میں علوم عقلیہ ونقلیہ کا کوئی گوشہ ایسا نہ تھا جسکی سیر نہ کرچکے ہوں ۔
عربی میں کامل دستگاہ اور علم کلام ومنطق پر پورا عبور حاصل کرنے کے بعد شیخ محدث نے دانشمندان ماوراء النہر سے اکتساب کیا ۔شیخ نے ان بزرگوں کے نام نہیں بتائے ،بہرحال ان علوم کے حصول میں بھی انکی مشغولیت اور انہماک کا یہ عالم رہا کہ رات ودن کے کسی حصہ میں
فرصت نہ ملتی تھی ۔
شیخ نے پاکئی عقل وخرد کے ساتھ ساتھ عفت قلب ونگاہ کا بھی پوراپورا خیال رکھا ،بچپن
سے انکو عبادت وریاضت میں دلچسپی تھی ،انکے والد ماجد نے ہدایت کی تھی ۔
ملائے خشک ونا ہموار نباشی۔
چنانچہ عمر بھر انکے ایک ہاتھ میں جام شریعت رہا اور دوسرے میں سندان عشق ۔والد ماجد نے ان میں عشق حقیقی کے وہ جذبات پھونک دیئے تھے جو آخر عمر تک انکے قلب وجگر کو
گرماتے رہے ۔
اس زمانہ میں شیخ محدث کو علماء ومشائخ کی صحبت میں بیٹھنے اور مستفید ہونے کا بڑا شوق تھا ،اپنے مذہبی جذبات اور خلوص نیت کے باعث وہ ان بزرگوں کے لطف وکرم کا مرکز بن
جاتے تھے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع