30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ومعرفت کی منزلیں طے کیں ۔ انکے بیٹے شیخ سیف الدین نے انکو رات کے وقت روروکر عاشقانہ اشعار پڑھتے ہوئے دیکھا تھا ۔انکے دو صاحبزادے تھے ۔
شیخ رزق اللہ ،شیخ سیف الدین ۔
شیخ سعد اللہ کے وصال کے وقت شیخ سیف الدین کی عمر آٹھ سال تھی ۔وصال سے کچھ دن قبل آپ اپنے بیٹے کو لیکر دو منزلہ پر پہونچے اور نما زتہجد کے بعد بیٹے کو قبلہ رو کھڑا کیا اور بارگاہ الہی میں دعا کی ۔الہی !تو جانتا ہے کہ میں دوسرے لڑکوں کی تربیت سے فارغ ہوچکا اور انکے حقوق سے عہدہ برآ ہوگیا ،لیکن اس لڑکے کو یتیم وبے کس چھوڑ رہاہوں اسکے حقوق میرے ذمہ ہیں ،اسکو تیرے سپرد کرتا ہوں تو اسکی حفاظت فرما ۔
کچھ دن کے بعد ۹۴۸ھ کو وصال ہوگیا ۔دعا شرف قبولیت پاچکی تھی ،لہذا ان کا یہ جگر گوشہ ایک دن دہلی کا نہایت ہی باوقعت اور باعزت انسان بنا اور اسی گھر میں وہ آفتاب علم نمودار ہوا جس نے ساری فضائے علم کو منور کردیا ۔
شیخ سیف الدین ۔شیخ سیف الدین ۹۴۰ھ مطابق ۱۵۱۴ء کو دہلی میں پیداہوئے اللہ تعالیٰ
نے انکو علم وعمل کی بہت سی خوبیاں عطا کی تھیں وہ ایک صاحب دل بزرگ ،اچھے شاعر اور
پر لطف بذلہ سنج انسان تھے ۔ساتھ ہی وہ صاحب باطن اور خدارسیدہ بزرگ تھے ۔شیخ امان اللہ پانی پتی سے بیعت کا شرف حاصل تھا ۔بسااوقات خوف وخشیت کااس قدر غلبہ رہتا کہ اسی میں مستغرق رہتے ۔لیکن وصال کے وقت یہ کیفیت ذوق وشوق میں بدل گئی ،عصر کا وقت تھا ، شیخ عبدالحق کو مسجد سے بلوایا ،شیخ نے بحالی کی حالت دیکھی تو متعجب ہوئے ، فرمایا۔بابا،جان لوکہ مجھ کو اس وقت کچھ رنج وفکر نہیں ہے بلکہ شوق پر شوق اور خوشی پر خوشی ہے ۔ جو میرا مطلوب تھا اب حاصل ہواہے ایسا نہ ہوکہ وہ ہاتھ سے جاتا رہے ،تمام عمر میں نے دعاکی تھی آخروقت میں ذوق وشوق کے ساتھ اس جگہ سے لیجا نا ۔۲۷؍ شعبان ۹۹۰ھ/۱۵۸۲ء کو یہ بے چین عاشق اپنے محبوب حقیقی سے جا ملا ۔
شیخ محدث دہلوی کی ولادت اور تعلیم وتربیت :۔آپکی ولادت ماہ محرم ۹۵۸ھ
/۱۵۵۱ء کو دہلی میں ہوئی ۔یہ سلیم شاہ سوری کا زمانہ تھا ،مہدوی تحریک اس وقت پورے عروج پر تھی جسکے بانی سید محمد جونپوری تھے ۔ شیخ کی ابتدائی تعلیم وتربیت خود والد ماجد کی آغوش ہی میں ہوئی ۔والد ماجد نے انکو بعض ایسی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع