30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پوری یاد تھی تو مبالغہ نہ ہوگا ۔اسی طرح فقہ وحدیث اور فلسفہ کی کتابیں بیشتر یاد تھیں ۔برسوں حرم شریف میں درس دیا ۔
مکہ معظمہ میں بیٹھ کر ساری علمی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرلیاتھا اور اپنے علمی تبحر کا سکہ حجاز ویمن اور مصروشام کے علماء سے منوایا تھا ۔
شیخ عبدالوہاب متقی عمر کے بیشتر حصہ میں مجرد ہی رہے ، عمر جب چالیس اور پچاس کے درمیان تھی تو شادی کی ،شادی سے پہلے ان کا یہ حال تھا کہ جو کتابت وغیرہ کی اجرت ملتی سب فقراء پر تقسیم کردیتے تھے ۔شادی کے بعد اہل وعیال کے حقوق کو مقدم سمجھتے تھے لیکن پھر بھی یہ حال تھا کہ کسی محتاج کی مدد سے گریز نہ کرتے تھے ۔
ھندوستان کے فقراء انکی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپ کھانے کپڑے وغیرہ سے انکی مدد کرتے تھے ۔
آپ اپنے زمانہ میں علم وعمل ،حال واتباع ،استقامت وتربیت ،مریدوں کے سلوک اور طالب علموں کی افادیت وامداد ،غریبوں فقیروں پر مہر بانی وشفقت ،مخلوق الہی کو نصیحت اور تمام نیک کاموں کی تلقین کرنے میں اپنے پیرومرشد کے حقیقی وارث ،اولین خلیفہ اور صاحب اسرار تھے ۔ آپ کا وصال ۱۰۰۱ھ میں مکۂ معظمہ میں ہوا۔(۲۶)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی
نام و نسب :۔نام ،عبدالحق ۔ والد کانام ،سیف الدین ۔اور لقب ،شیخ محدث دہلوی ،اور محقق علی الاطلاق ہے ۔سلسہ نسب یوں ہے ۔
شیخ عبدالحق بن سیف الدین بن سعد اللہ بن شیخ فیروز بن ملک موسی بن ملک معز الدین بن آغامحمد ترک بخاری ۔
آپ کے مورث اعلی آغا محمد ترک بخارا کے باشندے تھے ،وطن کے مایوس کن حالات سے دل برداشتہ ہوکر تیرھویں صدی عیسوی میں ترکوں کی ایک کثیر جماعت کے ساتھ ھندوستان آئے ۔
یہ سلطان علاء الدین خلجی متوفی ۱۳۱۶ء کا دورحکومت تھا ۔سلطان نے آپ کو اعلی عہدوں سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع