30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں بمقام مندو ایک بادشاہ کی ملازمت بھی کرلی تھی جو اس وقت مالوہ کی قدیم حکومت کا صدر مقام تھا ۔لیکن سعادت ازلی نے اور عنایت الہی نے اس سے دل برداشتہ کردیا ملازمت ترک کرکے ملتان کا رخ کیا اور وہاں شیخ حسام الدین متقی ملتانی کی خدمت میں حاضری
دی ۔
دوسال کی مدت میں تفسیر بیضاوی اور عین العلم کا آپ سے درس بھی لیا ۔اسکے بعد
تقوی وتوکل کو زادراہ بناکر حرمین شریفین زادھما اللہ شرفاوتعظیما کا سفر اختیار فرمایا ۔
مکہ معظمہ پہونچ کر شیخ ابوالحسن شافعی بکری کی خدمت میںحاضر ہوکر مزید علم شریعت وطریقت پایا ،سلسلہ عالیہ قادریہ شاذلیہ مدینیہ میں مجاز ہوئے اور پھر شیخ محمد بن محمد بن محمد سخاوی کی خدمت میں رہکر سلسلہ عالیہ قادریہ کا خرقہ حاصل کیا ۔دیگر مشائخ طریقت سے بھی اجازت وخلافت سے نوازے گئے اور حدیث کی سندشیخ شہاب الدین احمد بن حجر مکی سے حاصل کی اور
مکہ معظمہ میں اقامت اختیار کرلی ۔
شیخ عبدالحق محدث د ہلوی لکھتے ہیں :۔
اسی دوران آپ نے کنزالعمال نامی کتاب مدون ومرتب فرمائی جو آپ کا عظیم علمی ودینی شاہکار ہے ۔ نیز آپ نے احادیث مکررہ کو چھانٹ کر منتخب کنزالعمال بھی تحریر فرمائی ۔
ان کتابوں کو دیکھ کر آپ کے شیخ ابو الحسن بکری شافعی نے فرمایا تھا ، امام سیوطی نے جمع الجوامع لکھ کر تمام لوگوں پر احسان کیا تھا لیکن شیخ علی متقی نے کنزالعمال کی تدوین فرماکر خود ان پر احسان کیا ہے ۔
آپکی تصانیف کی تعداد ایک سوسے متجاوز ہے ۔پوری عمر زھد وتوکل میں بسر فرمائی ۔ اسکے بعد ھندوستان میں محمود شاہ صغیر گجراتی کے دور میں دومرتبہ تشریف لائے ،شاہ صغیر آپ کا
مرید بھی ہوگیا تھا ۔
آپ کا وصال ۲؍جمادی الآخرہ ۹۷۵ھ صبح صادق کے وقت مکہ معظمہ میں ہوا،مکہ
معظمہ میں تدفین کی گئی ۔شیخ عبدالوہاب متقی آپ کے ارشد تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں ۔(۲۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع