30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کانا شروع کیا یہاں تک کہ قاضی امام طحاوی کے مخالف ہوگئے ۔اسی اثناء میں قاضی معزول کردیئے گئے ۔جب امام طحاوی نے معزولی کا پروانہ پڑھا تو کچھ لوگ کہنے لگے ، آپ کو مبارک ہو ،آپ یہ سنکر سخت ناراض ہوئے اور کہنے لگے ،قاضی صاحب بہر حال ایک
صاحب علم آدمی تھے ،اب میں کس کے ساتھ علمی گفتگو کیا کرونگا ۔
فضل وکمال ۔امام طحاوی کے فضل وکمال ،ثقاہت ودیانت کا اعتراف ہردور کے محدثین
مؤرخین نے کیا ہے ۔علامہ عینی فرماتے ہیں: ۔
امام طحاوی کی ثقاہت ،دیانت علم حدیث میں یدطولی اور حدیث کے ناسخ ومنسوخ کی
مہارت پر اجماع ہوچکا ہے ۔
ابو سعید بن یونس تاریخ علماء مصر میں لکھتے ہیں :۔
آپ صاحب ثقاہت اور صاحب فقہ تھے ، آ پکے بعد کوئی آپ جیسا نہیں ہوا ۔
حافظ ابن عبدالبر لکھتے ہیں: ۔
طحاوی حنفی المذہب ہونے کے باوجود تمام فقہی مذاہب پر نظر رکھتے تھے ۔
ابن جوزی فرماتے ہیں:۔
آپ ثقہ ،ثبت اور فہیم تھے ۔
امام ذھبی نے فرمایا: ۔
آپ فقیہ ،محدث ، حافظ ، زبردست امام اور ثقہ تھے ۔
امام سیوطی فرماتے ہیں: ۔
آپ امام ،علامہ ، حافظ ،صاحب تصانیف ،ثقہ ثبت ،فقیہ ہیں ،آپ کے بعد آپ جیسا
کوئی دوسرا نہ ہوا ۔
جب عبدالرحمن بن اسحاق معمر جوہری مصر کے عہدئہ قضا پر متمکن ہوئے تو وہ آپ کے ادب واحترام کا پوراپورا خیال رکھتے تھے ، سواری پر ہمیشہ انکے بعد سوارہوتے ۔ جب ان سے اس کا سبب پوچھا گیا تو کہنے لگے ۔امام طحاوی مجھ سے گیارہ برس بڑے ہیں ،اور وہ مجھ سے اگر گیارہ گھنٹے بھی بڑے ہوتے تو پھر بھی ان کا احترام لازم تھا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع