30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے ماموں سے پڑھ رہے تھے کہ آپکے سبق میں یہ مسئلہ آیا کہ اگر کوئی حاملہ عورت مرجائے اور اس کے پیٹ میں بچہ زندہ ہو تو برخلاف مذھب امام ابو حنیفہ کے امام شافعی کے نزدیک عورت کا پیٹ چیر کربچہ نکالنا جائز نہیں ۔آپ اس مسئلہ کے پڑھتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ میں اس شخص کی ہر گز پیروی نہیں کرتا جو مجھ جیسے آدمی کی ہلاکت کی کچھ پرواہ نہ کرے ۔کیو نکہ آپ اپنی والدہ کے پیٹ ہی میںتھے کہ آپ کی والدہ فوت ہوگئی تھیں اور آپ پیٹ چیر کر نکالے گئے تھے ۔یہ حال دیکھ کر آپ کے ماموں نے آپ سے کہا خدا کی قسم تو ہرگز فقیہ نہیں ہوگا۔ پس جب آپ خدا کے فضل سے فقہ وحدیث میں امام بے عدیل اور فاضل بے مثل ہوئے تو اکثر کہاکرتے تھے کہ میرے ماموں پر خدا کی رحمت نازل ہو اگر وہ زندہ
ہوتے تو اپنے مذہب شافعی کے بموجب ضرور اپنی قسم کا کفارہ اداکرتے ۔
امام طحاوی نے اپنے ماموں مزنی کی درسگاہ کے بعد مصر کے شہرئہ آفاق استاذ ابو جعفر احمد بن ابی عمران موسی بن عیسی سے فقہ حنفی کی تحصیل شروع کی ،فقہ حنفی پر انکو کامل دستگاہ حاصل تھی اور صرف دو واسطوں سے ان کا سلسلہ امام اعظم سے مل جاتاہے ۔اس طرح امام طحاوی کی سند
فقہ اس طرح ہے:۔
عن احمد بن ابی عمران عن محمد بن سماعۃ عن ابی یوسف عن ابی
حنیفۃ ۔
اساتذہ ۔ مصر کے بعد آپ نے ملک شام ، بیت المقدس ،غزہ اور عسقلان کے مشائخ سے سماعت کی ،دمشق میں ابو حازم عبدالحمیدقاضی دمشق سے ملاقات کی اور ان سے فقہ حاصل کی ۔ اسکے بعد مصر واپس تشریف لائے اور جس قدر مشائخ حدیث آپکی حیات میں مصر آئے ان سب
سے امام طحاوی نے علم حدیث میں استفادہ کیا ۔چند اساتذہ کے نام یہ ہیں۔
سلیمان بن شعیب کیسانی ، ابوموسی یونس بن عبدالاعلی ،ہارون بن سعید رملی ،ابراہیم بن ابی دائود برلسی ،احمد بن قاسم کوفی ،احمد بن دائود سدوسی ،احمد بن سہل رازی ،جعفر ابن سلمی ،حسن بن عبدالاعلی صنعانی ،صالح بن شعیب بصری ،محمد بن جعفر فریابی ، ہارون بن محمد عسقلانی ، یحیی بن
عثمان سہمی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع