30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ نے تین تصانیف اپنی یادگار چھوڑی تھیں جن میں دوناپید ہیں ، تفصیل اس طرح ہے ۔
۱۔ التفسیر ، حافظ بن کثیر نے اسکو تفسیر حافل کہاہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ضخیم تالیف تھی ۔اس میں آپ نے تفسیر کیلئے جس قدر احادیث اور صحابہ وتابعین کے اقوال مل سکتے
تھے سب کو یکجا کردیا ہے ۔امام سیوطی نے طبقہ ثالثہ کی تفسیر وں میں شمارکیا ہے ۔
۲۔ التاریخ :۔ابن خلکان نے اسکو تاریخ ملیح ،اور ابن کثیر نے تاریخ کامل کا عنوان دیا
ہے ۔ یہ صحابہ سے لیکر مصنف کے عہد تک کی تاریخ ہے جس میں بلاد اسلامیہ اور رویان حدیث
کے حالات ہیں ۔ سنن ابن ماجہ
امام ابن ماجہ کی یہ مایۂ ناز اور شہرئہ آفاق تصنیف ہے، حافظ ذہبی نے اس کتاب کی بابت خود
آپ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ـ:۔
میں نے جب کتاب لکھ کر امام حافظ ابوزرعہ کی خدمت میں پیش کی تو وہ اسکو دیکھکر بے
ساختہ پکار اٹھے ۔
یہ کتاب اگر لوگوں کے ہاتھوں میں پہونچ گئی تو اس دور کی اکثر جوامع ومصنفات بیکار
اور معطل ہوکر رہ جا ئیںگی ۔
چنانچہ حافظ ابو زرعہ کا یہ قول حرف بحرف پوراپورا اور سنن ابن ماجہ کے فروغ کے سامنے
متعدد جوامع اور مصنفات کے چراغ ماند پڑ گئے ۔
سنن ابن ماجہ کو جس چیز نے عوام وخواص میں پذیرائی اور قبولیت عطاکی وہ اس کا شاندار اسلوب اور روایت کا حسن انتخاب ہے ۔ابواب کی فقہی رعایت سے ترتیب اور مسائل کے واضح استنباط اور تراجم ابواب کی احادیث سے بغیر کسی پیچیدگی اور الجھن کے مطابقت نے
اسکے حسن کو نکھاراہے ۔چند خصوصیات یہ ہیں ۔
۱۔ اس کتاب کی اکثر روایات وہ ہیں جو کتب خمسہ میں نہیں ۔
۲۔ کوئی حدیث مکرر نہیں لائی گئی ہے ۔
۳۔ اختصار وجامعیت میں اپنی مثال آپ ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع