30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اساتذہ ۔آپکے اساتذہ کی فہرست نہایت طویل ہے ،مندرجہ بالا کے علاوہ چند اسماء یہ ہیں ۔
محمد بن عبداللہ بن نمیر ،ابراہیم بن المنذرالخرامی ، عبداللہ بن معاویہ ھشام بن عمار ، ابوبکر بن ابی شیبہ ،محمد بن یحیی نیشاپوری ،احمد بن ثابت الجحدری ،ابوبکر بن خلادباہلی ،محمد بن
بشار ،علی بن منذر ۔وغیرہم
تلامذہ: ۔آپکے تلامذہ میں بعض کے اسماء اس طرح ہیں :۔
علی بن سعید عسکری ،احمد بن ابراہیم قزوینی ، ابوالطیب احمد بن روح شعرانی ،اسحاق بن محمد قزوینی ،ابراہیم بن دینار الجرشی الصمدانی ،حسین بن علی بن برانیاد ،سلیمان بن یزید قزوینی ،
حکیم مدنی اصبہانی ،وغیرہم
علم وفضل ۔امام ابن ماجہ کی امامت فن ،فضل وکمال ،جلالت شان ،وسعت نظر اور حفظ حدیث
وثقاہت کے تمام علماء معترف ہیں ۔
ابو یعلی خلیلی لکھتے ہیں :۔
ابن ماجہ بڑے ثقہ ،متفق علیہ ، قابل احتجاج ہیں ، آپکو حدیث اور حفظ حدیث میں پوری
معرفت حاصل ہے ۔
علامہ ابن جوزی کہتے ہیں ۔
آپ نے بہت سے شیوخ سے سماع حدیث کیا ،اور سنن ،تاریخ اور تفسیرکے آپ عارف تھے ۔
علامہ ذھبی فرماتے ہیں:۔
بیشک آپ حافظ حدیث ،صدوق اوروافرالعلم تھے ۔
مورخ ابن خلکان نے لکھا :۔
آپ حدیث کے امام اور حدیث کے جمیع متعلقات سے واقف تھے ۔
وصال :۔۲۲؍رمضان المبارک ۲۷۳ھ بروز پیر آپ کا وصال ہوا ، چونسٹھ سال کی عمر پائی ۔ آپکے بھائی ابوبکر نے نماز جنازہ پڑھائی ،دسرے دن تدفین عمل میں آئی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع