30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان سب میں آپکی سنن نسائی کو کامل شہرت حاصل ہوئی جو صحاح ستہ کی اہم کتاب
ہے ۔السنن الکبری تصنیف کرنے کے بعد امیر رملہ (فلسطین ) کے سامنے اس کتاب کو پیش کیا ، امیر نے پوچھا کیا آپ کی اس کتاب میں تمام احادیث صحیح ہیں ؟آپ نے فرمایا : نہیں ،اس میں صحیح اور حسن دونوں قسم کی احادیث ہیں ،اس پر امیر نے عرض کیا : آپ میرے لئے ان احادیث کو منتخب فرمادیں جوتمام تر صحیح ہوں ، لہذا امیر کی فرمائش پر آپ نے سنن کبری سے احادیث صحیحہ
کا انتخاب فرمایا اوراسکا نام اللمجتبی رکھا ۔
اسی کو سنن صغری بھی کہتے ہیں ،عرف عام میں سنن نسائی کے نام سے مشہور ہے ۔ محدثین جب مطلقا رواہ النسائی کہیں تو یہ ہی کتاب مراد ہوتی ہے اور کتب ستہ میں اسی کا اعتبار
ہے ۔
آپکی اس کتاب کی خوبی یہ بھی ہے کہ اکثر کتب صحاح کے اسالیب کی جامع ہے ، یعنی امام بخاری کے طرز پر ایک حدیث کو متعدد ابواب میں لاکر مختلف مسائل کا اثبات کیا ہے ۔امام مسلم کے طریقہ پرایک حدیث کے تمام طرق کو اختلاف الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے ۔امام ا ابودائود کے انداز پر صرف احکام فقہیہ سے متعلق احادیث کی تدوین کی ہے ۔اور امام ترمذی کی طرح احادیث کے ذیل میں ان پر فنی نقطہ نگاہ سے گفتگو کی ہے جنکا کچھ تذکرہ آپ نے جامع
ترمذی کے تحت ملاحظہ فرمایا ۔(۲۲)
امام ابن ماجہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع